خطبات محمود (جلد 24) — Page 156
$1943 156 خطبات محمود اس نے مجھے افیون مہیا کر کے نہیں دی۔میں بھنگ پینا چاہتا تھا مگر اس نے مجھے بھنگ مہیا کر کے نہیں دی۔میں کو کین استعمال کرنا چاہتا تھا مگر اس نے مجھے کو کین مہیا کر کے نہیں دی۔تو کیا دنیا کا کوئی بھی معقول انسان اس نالائق اور بے وقوف لڑکے کی تائید کرے گا اور کہے گا کہ ہاں ٹھیک ہے۔تمہارے باپ نے واقع میں تمہاری ضرورتوں کو پورا نہیں کیا۔ہر شخص اسے ملامت کرے گا اور کہے گا کہ جن چیزوں کو تم اپنی ضرورتیں کہہ رہے ہو وہ یا تو زہر ہیں اور یا پھر غیر ضروری چیزیں ہیں۔ان کو ضرور تیں قرار دینا تمہاری اپنی غلطی اور بے وقوفی ہے۔تو قرآن کریم کا دعویٰ یہ نہیں کہ وہ انسان کے لئے ہر زہریلی یا غیر متعلق چیز مہیا کرتا ہے۔وہ خود کہتا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ - 1 مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو سے اعراض کرتے ہیں۔پس جو چیزیں لغو ہیں وہ اس کی ضرورتیں نہیں ہو سکتیں۔اسی طرح جو چیزیں مضر ہیں وہ اس کی ضرورتیں نہیں ہو سکتیں۔اس کی ضرورتیں وہی ہیں جو جسم اور روح کی ترقی اور ان کے بقاء اور تحفظ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جو دنیا و آخرت میں اس کی جسمانی اور روحانی ترقیات کے لئے ضروری ہیں۔اور جب ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں تو پھر کوئی ایسی ضرورت کی بات نہیں نکل سکتی جس کا قرآن کریم میں ذکر نہ ہو اور اس نے وہ چیز بنی نوع انسان کے لئے مہیانہ کی ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جنگ نے ایک ایسی کیفیت دنیا میں پیدا کر دی ہے کہ جس کی وجہ سے سب لوگ حیران و پریشان ہیں اور اس مجبوری کی وجہ سے وہ پہلے جن چیزوں کو اپنی ضرورتیں قرار دیتے تھے ان کو زیادہ سے زیادہ مقید اور محدود کر رہے ہیں لیکن اسلام نے اس کا پہلے سے سامان کر دیا تھا۔چنانچہ اس نے حکم دیا تھا کہ كُلُوا کھاؤ بھی، وَاشْرَبُوا اور پیو بھی، وَلا تُسْرِفُوا - 2 لیکن اسراف مت کرو۔اب اسراف کے صرف یہی معنے نہیں ہیں کہ اگر تمہارے لئے دو چھٹانک کھانا کافی ہو تو تم تین چھٹانک مت کھاؤ بلکہ اس کا ایک یہ مفہوم بھی ہے کہ کھانا جس غرض کے لئے ہے اس کے باہر مت جاؤ۔کھانے کی غرض جسم کی حفاظت کرنا اور اسے وہ طاقتیں بخشنا ہوتی ہے جن سے انسان دنیا میں کام کر سکے۔پس اگر کوئی شخص ایسا کھانا کھاتا ہے جس سے اس کے جسم کی حفاظت ہو جاتی ہے تو وہ