خطبات محمود (جلد 23) — Page 77
* 1942 77 خطبات محمود کام لے کر دیکھنا تا پتہ لگ سکے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔چنانچہ جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو عرب کے دستور کے مطابق گو وہ بادشاہ کہلاتا تھا مگر اس کی ماں خود کھانا بر تانے بیٹھ گئی۔اپنے بیٹے کے لئے بھی اور عمرو بن کلثوم کے لئے بھی۔گویا عمرو بن ہند کی والدہ اس وقت عملاً عمر و بن کلثوم اور اس کے دوسرے عزیزوں کا کام کر رہی تھی۔پس ایسے وقت میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا کسی کام میں ہاتھ بٹانا ہر گز اس کی ہتک کا موجب نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ جب بادشاہ کی ماں خود ایک کام کر رہی تھی تو اسی کام میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا ہاتھ بٹانا ہر گز کوئی ایسی بات نہیں تھی جو اس کی شان اور عزت کے منافی ہوتی مگر واقعہ کیا ہو تا ہے۔کھانا بر تاتے وقت ایک تھال کچھ فاصلے پر پڑا تھا۔عمر و بن ہند کی والدہ کھانا بر تاتے بر تاتے اسے کہنے لگی۔بی بی ذرا وہ تھال تو سر کا کر ادھر کر دینا اسے بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ اس سے زیادہ اسے کوئی کام کرنے کے لئے کہے مگر تاریخوں میں لکھا ہے۔جو نہی اس نے عمرو بن کلثوم کی والدہ سے یہ بات کہی۔وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے زور سے پکار ناشروع کر دیا که او ابن کلثوم ! تمہاری ماں کی ہتک ہو گئی ہے۔عمرو بن کلثوم اس وقت بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور شاہی اعزاز کی وجہ سے وہ اپنے ہتھیار خیمہ میں ہی چھوڑ آیا تھا۔گویا وہ اس وقت بالکل بے ہتھیار تھا مگر جو نہی اس نے اپنی ماں کی اس آواز کو سنا اس نے اپنی ماں سے جا کر یہ نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا بتک ہوئی ہے؟ وہ گھبر ا کر کھڑا ہو گیا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگ گیا۔خیمہ میں بادشاہ کی تلوار لٹک رہی تھی اس نے اُچک کر تلوار کو میان سے نکالا اور بادشاہ کو قتل کر دیا پھر باہر نکل کر اس نے اپنے قبیلہ والوں سے کہا۔بادشاہ کا سب مال و متاع لوٹ لو۔چنانچہ اس کا سب مال و متاع لوٹ کر وہ اپنے وطن کی طرف واپس چلا آیا۔تو عرب لوگ کسی کی اطاعت کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے۔جو بات ان کی مرضی کے مطابق ہوتی تھی اسے تو مان لیتے تھے مگر جو بات ان کی مرضی کے خلاف ہوتی تھی۔اس کو سننا بھی وہ گوارا نہیں کرتے تھے لیکن پھر انہیں عربوں کو ہم دیکھتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی ال نیم کے زمانہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بدل ڈالے۔انہی عربوں میں سے ایک سمجھدار اور پڑھے لکھے اور اپنی قوم کے معزز فرد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ گلی میں سے گزر رہے تھے اور رسول کریم صلی للہ یکم مسجد میں وعظ