خطبات محمود (جلد 23) — Page 78
* 1942 78 خطبات محمود فرمارہے تھے۔وہ اسی وعظ کو سننے کے لئے مسجد کی طرف جارہے تھے۔مسجد اس وقت لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور جیسے ہماری مجلسوں میں بعض لوگ کناروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اس وقت بعض لوگ مسجد کے کناروں پر کھڑے تھے۔جب وعظ فرماتے فرماتے رسول کریم صلی الی تم نے کنارے کے لوگوں کو دیکھا تو آپ نے خیال فرمایا کہ ان کے پیچھے بھی بعض لوگ ہیں جن تک ان کے کھڑے ہونے کی وجہ سے آواز نہیں جاتی ہو گی۔چنانچہ آپ نے ان سے فرما یا بیٹھ جاؤ۔جب آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو عبد اللہ بن مسعود جو گلی میں چل رہے تھے اور اس وقت مسجد کے قریب پہنچ چکے تھے وہیں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر انہوں نے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔کوئی دوست جو پاس سے گزر رہا تھا اس نے کہا عبد اللہ بن مسعود یہ تم نے کیا مضحکہ خیز حرکت شروع کر دی ہے کہ زمین پر بیٹھے بیٹھے چل رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں چلتے۔انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ مجھے محمد رسول اللہ صلی الی ام کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے کیا پتہ میں وہاں تک زندہ علیہم پہنچوں یا نہ پہنچوں۔ایسا نہ ہو میرا خاتمہ محمد رسول اللہ صلی ال یکم کی نافرمانی میں ہو۔اس لئے میں یہیں بیٹھ گیا اور میں نے بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔4 اب ذرا مقابلہ کرو اس واقعہ کا عمرو بن کلثوم کے واقعہ سے کہ ایک بادشاہ کی دعوت پر وہ جاتا ہے اور اس کی ماں کو بادشاہ کی ماں کوئی بڑا کام نہیں بتاتی بلکہ وہ کام بتاتی ہے جو وہ خود کر رہی ہے اور اپنے بیٹے سے کم درجہ رکھنے والے شخص کے لئے کر رہی ہے۔پھر وہ کام کوئی بہت بڑا نہیں بتاتی بلکہ جو کچھ وہ کر رہی تھی اس میں سے بھی ایک نہایت معمولی اور چھوٹا سا کام کرنے کے لئے اسے کہتی ہے مگر اس کی طبیعت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی اور ادھر وہ بات کہتی ہے اُدھر وہ شور مچانے لگ جاتی ہے کہ میری ہتک ہو گئی مگر اسی گروہ کا ایک اور فرد گلی میں رسول کریم صلی ایم کی آواز سنتا ہے اور گلی میں سن کر ہی بیٹھ جاتا اور ایسی حرکت کرتا ہے جو دنیا میں عام طور پر ذلیل سمجھی جاتی ہے۔تم اپنے طور پر ہی اندازہ کر لو کہ اگر کوئی بڑا آدمی جو فرض کرو گاؤں کا نمبر دار یا لکھیا یا چودھری وغیرہ ہو زمین پر بیٹھا ہوا اپنے پیروں پر گھسٹ گھسٹ کر جارہا ہو تو تم پر کیسا برا اثر پڑے گا۔تم یقیناً اسے پاگل سمجھو گے مگر صحابہ کی