خطبات محمود (جلد 23) — Page 76
* 1942 76 خطبات محمود میں نہیں پایا جاتا تھا۔ایسی حالت میں رسول کریم صلی علی کیم کو اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا مگر بہت ہی تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے۔محققین کے نزدیک ساری مکی زندگی میں جو لوگ مکہ میں اسلام لائے۔ان کی تعداد سو کے قریب بنتی ہے۔غرض یہ تھوڑے سے آدمی رسول کریم علی ای نی پر ایمان لائے۔مکہ کے لوگ اول تو خود ہی دنیوی لحاظ سے نہایت حقیر تھے اور ان میں کوئی طاقت و قوت نہ تھی۔پھر ان کمزور لوگوں میں سے بھی ایسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو مکہ والوں کی نگاہ میں بھی کمزور سمجھے جاتے تھے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کتنی بہادری پیدا کر دی اور بے نظامی کی جگہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تنظیم کا نظارہ نظر آنے لگا۔یہی مکہ کے لوگ یا عرب کے باشندے کسی کی بات ماننا گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔یعنی اطاعت جو دنیا میں مہذب قوموں کا شعار سمجھا جاتا ہے۔وہ ان کے نزدیک سخت ذلت کی بات تھی۔چنانچہ عربی ادب کی کتب میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک بادشاہ عمرو بن ہند کے تھا۔اس نے ایک علاقہ پر جو شام اور عراق کی طرف تھا حکومت قائم کی اور عرب کے لحاظ سے اس قدر شوکت حاصل کرلی کہ اسے یہ خیال پیدا ہوا کہ سارا عرب میری بات مانتا ہے۔ایک دن درباریوں سے اُس نے باتیں کرتے ہوئے کہا۔کیا عرب میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو میری بات ماننے سے انکار کر سکے۔وہ اس بات کو خوب سمجھتا تھا کہ عرب کے لوگ اطاعت کرنا نہیں جانتے مگر اس نے خیال کیا کہ مجھے ایسار عب حاصل ہو گیا ہے کہ اب عرب کا کوئی شخص کم از کم میری بات ماننے سے انکار نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے جو اپنے قبیلہ کا سر دار ہے۔ہمارے خیال میں وہ ایسا شخص ہے جو آپ کی اطاعت نہیں کرے گا۔اس نے کہا بہت اچھا۔میں اس کی تصدیق کرنے کے لئے اسے بلواتا ہوں۔چنانچہ بادشاہ نے عمرو بن کلثوم کو دعوت دی اور اسے خط لکھا کہ آپ یہاں تشریف لائیں۔آپ سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کو لے کر آگیا جیسے عرب کا دستور تھا۔بادشاہ اس وقت کسی جگہ خیموں میں ٹھہر اہوا تھا۔وہیں اس نے آکر اپنے خیمے لگا دیئے۔اس نے عمرو بن کلثوم کو یہ بھی لکھا تھا کہ اپنی والدہ اور دوسرے عزیزوں کو بھی لیتے آنا۔چنانچہ وہ اس کے مطابق اپنی والدہ کو بھی لے آیا۔عمر و ابن ہند نے اپنی والدہ سے کہا۔کام کرتے کرتے عمرو بن کلثوم کی ماں سے کوئی چھوٹا سا