خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 565

* 1942 565 خطبات محمود وہاں سے اٹھ کر باہر جائے۔ایسے شخص کو چاہئے کہ رہائش گاہ پر ہی رہے۔جلسہ گاہ کے قریب شور کرنا ٹھیک نہیں۔ایک اور ضروری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی عبادت گاہ کی طرف جاتا ہے تو اس کے جانے کا کوئی نہ کوئی نتیجہ اللہ تعالیٰ ضرور نکالتا ہے۔بعض کام بظاہر بے نتیجہ سمجھے جاتے ہیں اس لئے کہ ان کا نتیجہ ظاہر میں دکھائی نہیں دیتا ورنہ کوئی ادنیٰ سے ادنی اور ذلیل سے ذلیل کام بھی ایسا نہیں جس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔کم سے کم ایسا کوئی کام بے نتیجہ نہیں ہوتا جس پر دین کا لیبل لگ جائے۔جو شخص حج کے لئے جاتا ہے وہ یا تو پہلے سے بہت زیادہ نیک بن کر لوٹے گا اور یا بہت بد معاش بن کر آئے گا۔اگر وہ نیک نیتی سے گیا اور اس نے عقل اور سمجھ سے کام لیا تو اس کے دل پر پہلے سے زیادہ نیکی کا اثر ہو گا لیکن اگر وہ خواہش نفس کے لئے گیا ہے یا اس لئے گیا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یار سم و رواج کے ماتحت گیا ہے یا اس لئے گیا ہے کہ لوگ اسے حاجی کہیں۔وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹاکر آئے گا اور بچپن میں بڑھ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بار سردی کا موسم تھا۔کسی ریل کے سٹیشن پر کوئی اندھی بڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا۔سوائے ایک چادر کے جو اس نے پاس رکھی ہوئی تھی تاجب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے۔اس نے وہ چادر پاس رکھی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اسے ٹول لیتی تھی۔ایک شخص اس کے پاس سے گزرا اور سوچا کہ یہ تو اندھی ہے، اندھیر ہو چکا ہے، اس لئے کوئی اور بھی آسانی سے نہیں دیکھ سکتا۔اس نے چپکے سے وہ چادر کھسکالی۔بڑھیا چونکہ بار بار اسے ٹٹولتی تھی اسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے۔اس نے جھٹ آواز دی کہ بھائیا حاجیا میری غریب دی چادر دے جا۔میرے کول تے ہور کوئی کپڑا وی نہیں۔یعنی بھائی حاجی صاحب میری چادر دے دیں۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس کوئی اور کپڑا بھی نہیں۔وہ شخص فوراواپس مڑا، چادر تو آہستہ سے اس کے ہاتھ میں پکڑا دی اور کہنے لگا کہ مائی یہ تو بتاؤ۔تمہیں یہ کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔(حقیقتا وہ حاجی تھا) وہ بڑھیا کہنے لگی پت ایہو جہے کم حاجی ہی کر سکدے نے۔” یعنی بیٹا ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔میں اندھی، کمزور ، غریب ہوں، سر دی کا 966