خطبات محمود (جلد 23) — Page 566
خطبات محمود 566 * 1942 موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چرانے کی کوئی چور اور ڈا کو بھی جرات نہیں کر سکتا۔یہ ایسا کام ہے جسے حاجی ہی کر سکتا ہے۔تو یہ بات بالکل سچی ہے کہ جو شخص لعنتی خیال سے خدا تعالیٰ کے گھر جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی لعنتیں اس پر اور بھی زیادہ پڑیں گی۔اس گھر میں جانے کا فائدہ جب ہو سکتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کا خوف دل میں لے کر جائے ورنہ یقینا فرشتے اس پر لعنت کریں گے اور کہیں گے کہ اسے یہاں آکر بھی خدا تعالیٰ کاخوف نہیں اور ایسا انسان جب واپس آئے گا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ سنگدل اور بد معاش ہو گا۔میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سورت کا ایک تاجر حج کے لئے گیا لیکن مین ایسے وقت میں جب حاجی ذکر الہی کرتے ہیں اور ہر ایک کی زبان پر اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ہوتا ہے اور دلوں پر خشیت طاری ہوتی ہے۔وہ اونٹ پر اردو کے گندے عشقیہ شعر پڑھتا جا رہا تھا۔پھر اس کے ساتھ ظاہری غیرتِ اسلامی اتنی تھی کہ جس جہاز پر میں واپس آرہا تھا اسی پر وہ شخص سوار تھا اور میرے کانوں نے خودسنا کہ وہ خد اتعالیٰ کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا کہ اے خدا یہ جہاز کیوں غرق نہیں ہو جاتا جس میں یہ شخص سوار ہے حالانکہ وہ خود بھی اسی جہاز میں تھا اور اگر جہاز ڈوبتا تو وہ بھی ساتھ ہی ڈوب جاتا۔پھر اس کی عملی حالت یہ تھی کہ ایک حافظ قرآن کمزور اور اندھا تھا۔یہ اس وقت مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں کہ وہ اندھا تھا یا نہیں بہر حال کمزور تھا اور غالباً اندھا بھی۔اس نے مجھے سنایا کہ میں نے اس کے پاس چالیس روپے رکھے تھے کہ مجھے جب خرچ کی ضرورت ہو گی، دے دے گا اور میر اخیال تھا کہ یہ امیر آدمی ہے، بد دیانتی نہ کرے گا مگر اب میں مانگتا ہوں تو دیتا نہیں۔اس کی دونوں باتیں سن کر مجھے اس سے دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے اس سے خود پوچھایا کسی کی معرفت کہلا بھیجا کہ آپ کو یاد ہے۔جب آپ منی کی طرف جارہے تھے۔آپ راستہ میں گندے عشقیہ شعر پڑھ رہے تھے۔آپ کو اس حالت میں حج کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہماری دکان بہت اچھی چلتی تھی۔ایک پڑوسی دکاندار حج کر آیا اور اس علاقہ کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ کوئی حج کر آئے تو سب اس کی دکان پر جانا پسند کرتے ہیں۔اس کے حج کر آنے سے ہماری دکان پر بہت بُرا اثر پڑا۔اس لئے میرے باپ نے