خطبات محمود (جلد 23) — Page 513
خطبات محمود 513 * 1942 مگر محمد علی ظلم کی زندگی اور ان سپاہیوں کی زندگی میں بھی تو بہت بڑا فرق ہے۔اب ہم دعا کرتے ہیں تو اس لئے کہ انگریزی سپاہی بچائے جائیں اور اس جنگ کی آگ سے وہ محفوظ رہیں مگر جب اسلام اور احمدیت کی صداقت کا سوال پیدا ہو گا، جب لوگوں پر اسلام اور احمدیت کی صداقت ثابت کرنے کے لئے انگریزوں کی درخواست پر یہ دعا کی جائے گی اس وقت ہم یہ دعا نہیں کریں گے کہ انگریزوں کو زندگی دے بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ اے خدا! محمد صلی ا یکم جو اس وقت دنیا کی نگاہ میں مُردہ ہیں انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ کر دے۔اس دعا کا بھلا اس دعا سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے جو اس وقت ہم انگریزوں کے لئے کر رہے ہیں۔کاش انگریز اس طرف توجہ کرتے اور ہماری جماعت سے اپنی کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کرتے۔پھر ہماری یہ دعا ویسی ہی درد بھری چیخ و پکار ہوتی جیسے یونس نبی کی قوم نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھ کر چیخ و پکار کی تھی اور آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کو دور کر دیا۔خدا کرے انگریزوں کی آنکھیں کھلیں اور وقت کی ضرورت کو پہچانیں اور دعا کے اس کارگر حربہ سے جو خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو عطا فرمایا ہے فائدہ اٹھائیں۔اگر وہ اس طرح توجہ کریں تو یقیناً یہ امر ادھر ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو گا کہ اس طرح اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان ظاہر ہو گا اور اُدھر ان کے لئے بھی خوشی کا موجب ہو گا۔بغیر شدید قربانیوں کے انہیں جنگ میں فتح حاصل ہو جائے گی۔انشاء اللہ۔“ (الفضل 12 نومبر 1942ء)