خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 511

* 1942 511 خطبات محمود تانگے وغیرہ چلتے رہتے ہیں۔اس ڈل میں اس نہر کا دروازہ کھلتا ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی اونچا ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہر کا پانی بھی اونچا ہو جاتا ہے اور ڈل میں زور سے پانی گرنے لگ جاتا ہے۔اس وقت کشتی نیچے سے اوپر کی طرف لے جانی بڑی مشکل ہوتی ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی نیچا ہو جاتا ہے اور ڈل کا پانی اونچا ہو تا ہے۔سارا سرینگر اسی ڈل پر گزارہ کرتا ہے۔بعض زمینداروں نے اس ڈل میں گیلیاں ڈالی ہوئی ہیں اور ان گیلیوں پر مٹی ڈال کر سبزی ترکاری بولیتے ہیں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی یہ گیلیاں چرا کر لے جاتا ہے۔اس وقت یہ حیرت انگیز بات وہاں سننے میں آتی ہے کہ بھئی تم نے کہیں میری زمین دیکھی ہے۔کوئی شخص اسے چرا کر لے گیا ہے۔بہر حال ان زمینوں کی وجہ سے کثرت سے سبزی پیدا ہوتی ہے اور صبح کے وقت کشتیاں سبزی سے بھری ہوئی وہاں سے آرہی ہوتی ہیں۔جب دریا اور ڈل کا پانی برابر ہو تب تو کشتیاں آسانی سے ادھر ادھر آتی رہتی ہیں لیکن جب ایک طرف کا پانی اونچا نیچا ہو تو پھر کشتی چلانے میں انہیں بڑی دقت محسوس ہوتی ہے۔میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ ایک کشتی آئی جس میں کشمیری عورتیں اور مرد بیٹھے ہوئے تھے اور ایک طرف کا پانی اونچا تھا۔انہوں نے کشتی چلانے کے لئے زور لگانا شروع کیا، بانس بھی چلایا مگر کشتی نہ چلی آخر کچھ آدمی کشتی سے اتر گئے اور رہنے ڈال کر انہوں نے کشتی کو کھینچنا شروع کر دیا۔اس وقت جس طرح ہمارے ہاں شیعیت سے متاثر مسلمان زور سے یا علی کا نعرہ لگاتے ہیں۔انہوں نے بھی نعرہ لگانا شروع کر دیا کہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ لَا بِلهَ يلا الله - کشمیری الف نہیں بول سکتے بلکہ الف کی بجائے یا کا استعمال کرتے ہیں اور یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہیں۔تم کہتے ہو اسماعیل مگر ایک یہودی کہے گا يشمَئِيل یعنی تمہارے الف کی جگہ وہ ہی استعمال کرے گا۔بعض دفعہ ی کی جگہ عربوں کا تلفظ ع کا سا ہوتا ہے جو الف کے تلفظ کے مشابہ ہوتا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں یشوع اور عرب کہتے ہیں عیسی۔غرض ان کشمیریوں نے بھی زور سے نعرے لگائے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور کوشش کی کہ کشتی وہاں سے نکل جائے مگر ان کا کام کچھ بنا نہیں۔جب انہوں نے دیکھا کہ