خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 510

* 1942 510 خطبات محمود ہونے کا سوال آئے گا، وہاں دعا کے اندر جو جوش پیدا ہو سکتا ہے، وہ دوسری صورت میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔نادان انسان سمجھتا ہے کہ دعا کے لئے ہر حالت میں یکساں جوش ہونا چاہئے حالانکہ نجا محمد لی لی نام کی سچائی کا سوال اور کجا انگریزوں کی مظلومی کا سوال۔بھلا دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے۔کہتے ہیں کُجا راجہ بھوج اور کُجا گنگو تیلی انگریزوں کی محمد صلی اللی نیلم کے مقابلہ میں بھلا نسبت ہی کیا ہے کہ ان دونوں کے متعلق دعا کرنے میں طبیعت میں یکساں جوش پیدا ہو۔وہاں تو یہ سوال ہو گا کہ اس دعا کے نتیجہ میں قران کی سچائی اور محمد صلی علی یلم کی سچائی ظاہر ہو گی اور عیسائیوں پر اسلام کی صداقت واضح ہو جائے گی۔پس وہاں تو ہر احمدی دعا میں اپنا زور لگا دے گا اور اتنی دعائیں کرے گا کہ گویا اپنی ناک رگڑ دے گا۔وہ نادان جو یہ اعتراض کرتا ہے اس کے نزدیک انگریزوں کی خیر خواہی اور محمدعلی ایم کی سچائی کا سوال ایک جیسا ہو گا اور اس کے دل میں جیسے انگریزوں کی محبت ہے ویسی ہی محمد صل الل لم کی محبت ہو گی لیکن ہمارے دلوں میں تو اس محبت اور اس محبت میں بہت بڑا فرق ہے۔ہمیں انگریزوں سے بے شک خیر خواہی ہے اور ہم ان کی کامیابی کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن اس جوش اور اُس جوش میں بھلا کوئی بھی نسبت ہو سکتی ہے۔محبت بے شک ہمیں دونوں سے ہے مگر محبت محبت میں فرق ہوتا ہے اور محبت کے فرق کی وجہ سے طبیعت کے جوش میں بھی بہت بڑا فرق واقع ہو جاتا ہے۔میں نے کشمیر میں دیکھا ہے کشمیری لوگوں میں شرک بہت زیادہ ہے۔ان کے نزدیک خدا کی اور محمد علی ایم کی اتنی عظمت نہیں جتنی سید عبد القادر جیلانی کی ہے۔ان سے اتر کر شیخ زین الدین صاحب کی عظمت وہ لوگ کرتے ہیں اور پھر تیسرے درجہ پر اللہ اور رسول کو عظمت دیتے ہیں۔سری نگر کے پاس ایک چھوٹی سی جھیل ہے جو ڈل کہلاتی ہے، وہ ڈیڑھ دو میل لمبی ہے اور میل ڈیڑھ چوڑی ہے۔اس کے پاس سے ہی دریائے جہلم گزرتا ہے اور دریا میں سے ایک نہر کاٹ کر اس ڈل کے سامنے سے گزاری گئی ہے۔جس وقت کا میں ذکر کر رہا ہوں اس وقت وہ با قاعدہ نہر تھی۔ممکن ہے اس سے پہلے ایک طبعی نالہ ہو، جو اسے دریا سے ملا تا ہو۔اس کے کنارے پر سڑکیں ہیں اور ان پر