خطبات محمود (جلد 23) — Page 441
* 1942 441 خطبات محمود مگر اس ثواب میں وہ بھی تمہارے ساتھ شریک رہے ہیں۔اسی طرح تمہارے پاؤں میں کوئی کانٹا نہیں چھا۔جس کا ثواب تمہاری طرح ان لوگوں کو بھی نہ ملا ہو جو اس وقت مدینہ میں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔کا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تکلیفیں ہم اٹھائیں اور ثواب میں وہ بھی ہمارے شریک ہو جائیں۔آخر وہ کون لوگ ہیں جو بغیر جہاد پر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ثواب حاصل کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس لئے جہاد سے پیچھے نہیں رہے کہ انہیں کوئی بیماری تھی یا کمزوری تھی یا غفلت ان کے دلوں میں پائی جاتی تھی بلکہ وہ اس لئے پیچھے رہے ہیں کہ خدا نے ان کو جہاد میں شامل ہونے کی توفیق ہی نہیں دی وہ اندھے تھے یالولے تھے یا لنگڑے تھے اور اس وجہ سے جہاد میں شامل نہیں ہو سکتے تھے مگر ان کے دل اس غم سے خون ہو رہے ہیں کہ ہمارے بھائی تو ثواب کا یہ عظیم الشان موقع لے گئے اور ہم اس سے محروم رہے اور ان کے دلوں کے یہ غم اتنی شدت پکڑ گئے ہیں کہ خدا نے کہا دیکھو میرے بندوں کو دین کی ایک خدمت سے محروم رہنے کا کتنا غم ہوا ہے۔اے فرشتو! ان کا نام بھی انہی لوگوں میں لکھ لوجو اس وقت جہاد کے لئے گئے ہوئے ہیں۔غرض دل کا غم معمولی چیز نہیں ہو تا بلکہ بعض دفعہ یہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان کو پاگل بنادیتا ہے۔رسول کریم صلی الی یوم کے ایک صحابی کا میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کئی دفعہ ذکر فرمایا کرتے تھے۔قرآن کریم میں مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ 1 والی آیت جو آتی ہے۔اسی آیت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ واقعہ بیان کیا کرتے تھے بلکہ اس آیت کا شان نزول بھی بعض لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔بدر کی جب لڑائی ہوئی تو صحابہ نے اس جنگ میں بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ایسی قربانیاں کہ ان واقعات کو پڑھ کر دل ان کی محبت سے لبریز ہو جاتا ہے مگر بدر کی جنگ کا رسول کریم صلی الی یوم نے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔اس لئے بہت سے صحابہ اُس میں شامل نہیں ہوئے تھے مگر وہ اپنے اخلاص میں دوسرے بھائیوں سے کم نہیں تھے جب بدر سے یہ لوگ واپس آئے اور صحابہ کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی ا م کی زندگی پچھلے دنوں کتنے خطروں میں سے گزری ہے تو ان کے