خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 440

* 1942 440 خطبات محمود سے معذرت کرو گے اور عذر انسان کو خوش نہیں کرتا بلکہ افسردہ کیا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عذر انسانی عمل کے قائم مقام سمجھا جاتا ہے کیونکہ سچا غم ظاہری مصائب سے بہت زیادہ سخت ہو تا ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے۔جن کے بالوں کا اکثر حصہ ایک دو دن کے اندر اندر غم کی وجہ سے سفید ہو گیا۔چھ سات دن پہلے ان کے بال سیاہ تھے مگر یکدم کوئی ایسا غم پہنچا کہ ان کے بالوں کا اچھا خاصہ حصہ ایک دو دن کے اندر اندر سفید ہو گیا۔ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں۔جن کے سارے بال ایک دن کے اندر اندر سفید ہو گئے یعنی سفید کھونٹیاں نکل آئیں۔یہ نہیں کہ اوپر کے بال بھی سفید ہو گئے۔اب دیکھو ظاہری بیماریوں کی وجہ سے انسان بعض دفعہ دو دو، چار چار ماہ بیمار پڑا رہتا ہے اور اس کے بال سفید نہیں ہوتے مگر غم کی وجہ سے تھوڑے عرصہ میں ہی بالوں کا اکثر حصہ سفید ہو جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کا غم ظاہری تکلیف سے بہت زیادہ سخت ہوتا ہے۔پس جو شخص اپنی کسی معذوری کی وجہ سے اپنے رب تک نہیں جاسکتا۔رمضان آتا ہے مگر بیماری یا کسی اور عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا۔اس کا دل اگر روزوں کے رہ جانے پر ایسا ہی غم اور صدمہ محسوس کرتا ہے تو یقیناوہ خدا تعالیٰ کے حضور روزہ دار سمجھا جاتا ہے مگر یہ اس غم کی وجہ سے ہو گا جو اس کے دل کو روزے نہ رکھنے کی وجہ سے پہنچا ہو گا ورنہ جو لوگ رمضان کے ختم ہونے سے پہلے ہی اس کو وداع کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ان کو یہ ثواب نہیں مل سکتا۔رسول کریم صلی ال یکم ایک دفعہ صحابہ کے ساتھ جہاد پر جاتے ہوئے ایک وادی میں سے گزر رہے تھے۔منزل سخت کٹھن تھی راستہ پر خطر تھا۔قدم قدم پر کانٹے تھے ان کے ہاتھ زخمی ہو رہے تھے۔ان کے پیروں میں کانٹے چبھ رہے تھے اور ہاتھ پاؤں پر پیٹیاں بندھی ہوئی تھیں کہ بعض صحابہ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ آج ہم نے بہت بڑا ثواب کمایا ہے۔رسول کریم صل اللہ کی کو بھی محسوس ہوا کہ صحابہ کے دلوں میں فخر کے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔جب شام کو قافلہ منزل مقصود پر پہنچا تو رسول کریم صلی علیم نے فرمایا۔مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ویسا ہی ثواب مل رہا ہے جیسے تم کو مل رہا ہے تم کسی وادی میں سے نہیں گزرے