خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 442

* 1942 442 خطبات محمود دلوں میں بہت ہی افسوس پیدا ہوا کہ ہم اس خدمت کے لئے کیوں نہ جاسکے چنانچہ جب انہیں اپنے بھائیوں کے واقعات معلوم ہوتے کہ کس کس طرح انہوں نے خدمت کی تو وہ بے تاب ہو جاتے تھے مضطرب ہو جاتے تھے اور گھبر اہٹ سے ان کا اپنے بھائیوں کے متعلق رشک انتہا تک پہنچ جاتا تھا۔حضرت انس کے چچا کے متعلق احادیث میں ذکر آتا ہے کہ جب وہ جنگ بدر کا ذکر سنتے تو گھبر اکر کھڑے ہو جاتے اور سنانے والے کو جو یہ سنا رہا ہو تا تھا کہ ہم نے یوں کیا اور ہم نے یوں کیا۔بڑے جوش کے ساتھ کہتے تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا میں اگر ہوتا تو تمہیں دکھاتا۔اب وہ ہوتے کس طرح ، وہاں تو تھے ہی نہیں۔بظاہر یہ کتنی ہنسی کی بات ہے۔بظاہر یہ ایک منافقت کی علامت ہے کیونکہ منافق ہی ہوتا ہے جو کام تو نہیں کرتا مگر دعوے یہ کرتا ہے کہ اگر میں ہوتا تو اس طرح کرتا کیونکہ وہ اپنا نفاق چھپانے کے لئے اس طرح کے دعوے کیا کرتا ہے لیکن کبھی مومن بھی اپنا اضطراب چھپانے کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کر لیا کرتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ خدمت دین کا کوئی موقع میرے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو وہ دل ہی دل میں اپنی اس محرومی پر کڑھتا ہے اور دوسرے بھائیوں کے واقعات سن کر کہتا ہے۔اگر میں ہوتا تو تمہیں بتاتا کہ قربانی کس طرح کی جاتی ہے۔حضرت انس کے چچا کی بھی یہی حالت تھی۔وہ جب دیکھتے تھے کہ میں بدر کی جنگ میں محمد صلی ال نیم کی جان بچانے والوں میں نہیں تھا تو ان کا دل کانپنے لگ جاتا تھا، بیٹھنے لگ جاتا تھا اور اس کا انہیں ایک ہی علاج نظر آتا تھا جیسے ڈاکٹر کسی کا دل کمزور دیکھتے ہیں تو اسے سپرٹ ایمونیا ایرو میٹک دے دیتے ہیں۔اسی طرح ان کے لئے بھی سپرٹ ایمونیا ایرومیٹک یہی ہے کہ وہ کہتے میں اگر ہو تا تو بتا تا کہ کس طرح قربانی کیا کرتے ہیں۔اگر اس طرح وہ اپنے دل کو تسلی نہ دیا کرتے تو شاید اس غم کی شدت کی وجہ سے وہ اسی وقت مر جاتے مگر ان کا یہ کلام منافقوں کی طرح نہیں تھا۔آخر خدا نے ان کا امتحان لیا اور دنیا پر ان کے اخلاص اور ایمان کو ظاہر کر دیا چنانچہ وہ دن آیا جب جنگ احد ہوئی۔وہ بھی اس لڑائی میں شامل ہوئے اور انہوں نے خوب دادِ شجاعت دی۔خوب لڑے اور خوب محمد صلی الی نمک کو کفار کے حملوں سے بچایا۔آخر فتح ہوئی اور فتح کے بعد مسلمان دشمن کو قیدی بنانے اور اس کا مال و اسباب جمع کرنے میں مشغول ہو گئے۔نادان دشمن اس کا نام لوٹ مار