خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 358

* 1942 358 خطبات محمود میری ان ساری قربانیوں کے بعد ہندوستان کی آزادی کا سہرا کسی ایسے لیڈر کے سر بندھے گا جس نے میرے برابر تو کیا مجھ سے ہزاروں حصے کم بھی قربانیاں نہیں کی ہوں گی اور میں اپنے ملک کو غلام دیکھنے کی حالت میں ہی مٹی کے نیچے دفن ہو جاؤں گا یا آگ میں جل کر فنا ہو جاؤں گا۔تم اگر ذرا بھی قوتِ فکریہ سے کام لو تو تم اس کی دماغی حالت کے سمجھنے میں کچھ نہ کچھ کامیاب ہو سکتے ہو۔پس ایک انسان کمزور انسان جسے خدا کی مدد حاصل نہیں۔گو وہ مُنہ سے کہتا ہے کہ مجھے اندرونی آواز سنائی دیتی ہے مگر در حقیقت وہ اس کے نفس کا دھوکا ہے۔اسے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔تم سمجھ سکتے ہو کہ اس مایوسی کی حالت میں اس کے اندر کتنا غصہ پید اہوتا ہو گا اور اسے انگریزوں کے خلاف کتنا جوش آتا ہو گا۔اب اس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ جنگ کے بعد جب جر منی اپنی جگہ چلا جائے گا اور جاپان اپنی جگہ۔وہ انگریزوں سے صلح کرلے گا اور کہے گا آؤ ہم مل کر ایک حکومت قائم کر لیں۔یہ ناممکن بات ہے۔اب انگریزوں کے خلاف سیاسی ہندوستانیوں کے دلوں میں ایسا کینہ اور بغض پیدا ہو چکا ہے کہ جب بھی حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھ آئی، یہاں کی اکثریت انگریزوں کو ہندوستان سے الگ کرنے کی کوشش کرے گی۔ادھر مسلمانوں کی جو کیفیت ہے وہ بھی ویسی ہی دردناک ہے۔مسلمانوں نے پہلے ہندوؤں کا ساتھ دیا اور گو خلافت موومنٹ کی گاندھی جی نے تائید کی لیکن در حقیقت انہوں نے خلافت موومنٹ کے پردہ میں ہندوستان کی آزادی کی بنیاد رکھ دی اور خلافت کی تحریک ان کے مقصد کو تقویت دینے والی بن گئی۔اگر اس وقت ہندوستان میں خلافت کی تحریک جاری نہ ہوتی تو کانگرس کبھی اتنی مضبوط نہ ہوتی جتنی اس وقت مضبوط ہے۔ممکن ہے وہ کسی قدر طاقت حاصل کر لیتی مگر موجودہ طاقت کا وہ سینکڑواں حصہ بھی نہ ہوتی۔مسلمان بیشک نظام میں کمزور ہے مگر وہ سپاہی اچھا ہے۔وہ اپنی ذات میں خود نظام قائم کرنے میں ڈھیلا ہے اس لئے کہ وہ خدا سے دور جا پڑا، اس کی تمام تر ترقی خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے اور اس کے راستہ پر چلنے میں مرکوز ہے مگر چونکہ وہ خدا سے دور جا پڑا، اس لئے وہ ترقی سے بھی محروم ہو گیا۔لیکن سپاہی آج بھی وہ اچھا ہے اور آج بھی مسلمان جان دینے میں دوسروں سے زیادہ دلیر ہے۔بہر حال