خطبات محمود (جلد 23) — Page 357
* 1942 357 خطبات محمود مطالبات کو نہ مانا گیا تو انہوں نے فساد کئے، بغاوتیں کیں اور چاہا کہ انہیں کسی طرح آزادی مل جائے مگر جب اس طرح بھی انہیں آزادی نہ ملی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہیں آزادی ملی تو انہوں نے ساتھ ہی انگلستان سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا۔باوجود اس کے کہ آئر لینڈ کے دوست امریکہ نے زور دیا کہ وہ ایسانہ کرے مگر پھر بھی انہوں نے انگلستان سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔جو کچھ آئر لینڈ کے ڈی ولیر انے وہاں کیا۔تم یقینا سمجھ لو کہ ہندوستان کا گاندھی بھی اس ملک میں وہی کچھ کرے گا۔اس سے یہ امید کرنا کہ اتنی لمبی بحث اور لڑائی کے بعد وہ انگریزوں سے صلح کرلے گا، بہت بڑی نادانی ہے۔گاندھی جی کے ساتھ سیاسی لحاظ سے ہمیں خواہ کتنا ہی اختلاف ہو ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے بہت بڑی قربانیاں کی ہیں اور ہندوستانیوں کو اٹھانے اور بیدار کرنے کے لئے انہوں نے جد و جہد سے کام لیا ہے۔گو ان کا نقطہ مرکزی ہندو قوم ہی ہے اور ہندو قوم کی اکثریت کو ہندوستان سمجھ لینا، گو ایک سیاسی غلطی ہے مگر ان کی قربانیوں کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسا آدمی جس نے سوئے ہوئے تیس کروڑ آدمیوں کو جگایا، جس نے ان کے دلوں میں آزادی کی آگ لگادی اور جس نے انہیں اپنے ملک کی آزادی کے لئے تیار کر دیا، جو ایسے وقت میں ملک کی خدمت کے لئے اٹھا جبکہ اس کی عمر باون سال کے قریب تھی اور جس نے اس غرض کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ان تمام قربانیوں اور کوششوں کے بعد طبعی طور پر اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو تا تھا کہ میں ہندوستان کو اپنی زندگی میں ہی آزاد دیکھوں گا اور میں اس خوشی سے مروں گا کہ میں نے اپنے ملک کو غلامی سے نکال کر حکومت کے بلند مقام تک پہنچا دیا مگر رفتہ رفتہ اس کی یہ امید مایوسی سے بدلنے لگی۔اس نے دیکھا کہ میری عمر ختم ہوتی جارہی ہے، میرا بڑھاپا بڑھتا جارہا ہے، میری سیدھی کمر خم ہونے لگی ہے، میر اصاف دماغ پر اگندگی کے آثار محسوس کرنے لگا ہے لیکن ہندوستان نے ابھی آزادی کی ہوا تک نہیں کھائی۔تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ ایسے آدمی کی غصہ سے کیا کیفیت ہو گی۔وہ اس آگ کو کتنا ہی دبائے، اس کے دماغ میں ہر وقت یہ شعلہ اٹھ رہا ہو گا کہ میری ساری امیدوں پر پانی پھر گیا، میری محنت اکارت چلی گئی اور میری جدوجہد نے کوئی پھل پیدا نہ کیا۔میں مر جاؤں گا تو شاید