خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 359

$1942 359 خطبات محمود اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گاندھی جی کو مسلمانوں نے بڑا بنایا۔اسی طرح اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مولوی محمد علی اور مولوی شوکت علی کو بھی گاندھی جی نے بنایا۔گاندھی کا نظام کو قائم رکھنے والا ہاتھ اگر ان کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ اتنا کام نہ کر سکتے جتنا انہوں نے کیا۔بہر حال ایسے شخص کی ہدایت کے ماتحت جو تنظیم کی قوت اپنے اندر رکھتا تھا، انہوں نے ہندوستان کو ابھارا اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں وقتی طور پر ایسا اتحاد قائم ہو گیا کہ مسلمانوں نے سمجھا اب ہمیشہ کے لئے ان کا آپس میں بھائی چارا قائم ہو گیا ہے مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مسلمانوں نے دیکھا جس طرح پہلے رام چند دفاتر میں مسلمانوں کی ملازمت میں روک بنتا تھا، اسی طرح رام چند یہ پسند نہیں کرتا کہ عبد الرحمان کو کوئی ملازمت ملے۔جس طرح پہلے دیوی دیال مسلمانوں کا ہاتھ کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ چھو جانے کی وجہ سے انہیں نجس اور ناپاک سمجھتا تھا اسی طرح آج بھی دیوی دیال یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی مسلمان اس کے کھانے پینے کی چیزوں کو ہاتھ لگائے بلکہ پہلے سے زیادہ اس کے دل میں مسلمانوں کی نفرت پیدا ہو چکی ہے۔تین چار سال تو انہوں نے تجربہ میں گزارے مگر پھر مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور ان میں بغاوت کے آثار پیدا ہونے شروع ہوئے۔لیڈروں نے ان کو روکنا چاہا مگر مسلمانوں کی بغاوت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ ان کی اکثریت گاندھی جی سے الگ ہو گئی اور لیڈروں نے بھی محسوس کیا کہ اب ان کی صرف لیڈری ہی لیڈری رہ گئی ہے۔مسلمان ان کے ساتھ نہیں رہے۔تب انہوں نے بھی گاندھی جی کو چھوڑ دیا اور مسلمان پبلک سے آملے۔اس کے بعد بار بار مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی مگر ہندوؤں نے ہر بار یہی کہا کہ پہلے ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ طے ہو جانا چاہئے۔اس کے بعد تمہارے حقوق کا خیال رکھ لیا جائے گا۔آخر جو کیفیت ہندوؤں کے دل کی انگریزوں سے سمجھوتہ نہ ہوتے دیکھ کر ہو گئی تھی وہی کیفیت مسلمانوں کے دل کی ہندوؤں سے سمجھوتہ نہ ہوتے دیکھ کر ہو گئی۔چنانچہ ایک طرف اگر گاندھی جی نے ایک لمبے تجربہ کے بعد اعلان کر دیا کہ اب ہم انگریزی حکومت کے ماتحت نہیں رہ سکتے۔ہم پہلے آزادی حاصل کریں گے اور پھر سوچیں گے کہ انگریزوں سے کیسے تعلقات رکھیں۔تو دوسری طرف مسلم دنیا نے بھی یہ اعلان کر دیا کہ ہم ایک لمبے تجربہ کے بعد