خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 354

* 1942 354 خطبات محمود حقوق چھین لئے اور آئندہ بھی ہم لڑیں گے ، ماریں گے اور اپنے حقوق چھینیں گے۔اس ذہنیت کو بھلا کون مٹا سکتا ہے۔پھر ایک اور خطرناک غلطی گورنمنٹ سے یہ ہوئی کہ مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات کے بعد جب نئی قسم کی گورنمنٹ کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت بھی اس نے بخل سے کام لیا اور اگلا قدم اٹھانے میں دیر کی گئی اور اس طرح جو تجربہ اس نے شروع کیا تھا اسے بھی تکمیل تک پہنچنے نہ دیا۔میرے لئے ہمیشہ ہی یہ بات حیرت کا موجب رہی ہے کہ غالباً 1921ء میں اسمبلیوں کے لئے الیکشن ہوئے تھے مگر اس کے بعد نئی کو نسلوں کے کھڑا ہونے تک اکثر کو نسلوں کے دوبارہ الیکشن نہیں ہوئے۔اب تو کہا جاتا ہے کہ جنگ کی وجہ سے نئے انتخابات نہیں کئے جاسکتے مگر مانٹیگو چیمسفورڈ سکیم کے بعد بھی بعض کو نسلیں دس دس سال تک قائم رہی تھیں۔اس سے قدرتی طور پر لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ حکومت ہمیں حقوق دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ہم چونکہ مذہبی آدمی ہیں اس لئے ہم لوگوں کے خیالات کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے یا اگر اندازہ لگا سکتے ہیں تو کسی مذہبی مثال سے ہی۔لیکن جو لوگ سیاسی ہیں اور جن کی زندگی کا مقصد ہی حکومت کا حصول ہے۔تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ ان کے لئے یہ بات کتنی تکلیف دہ تھی کہ جب وہ سمجھتے تھے کہ انہیں جلد سے جلد حقوق ملنے والے ہیں، حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا اور ہندوستانیوں کو حقوق دینے میں تاخیر سے کام لیا۔چنانچہ 1917ء ، 1918ء میں مانٹیگو چیمسفورڈ سکیم بنی۔اور دوسرا قدم 1929ء تک نہیں اٹھایا گیا اور جب راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس بلائی گئی تو اس کے کام کی تکمیل جاکر 1937ء میں ہوئی۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو سیاسی لوگوں کے دلوں میں انگریزوں کا بغض پیدا کرنے کا موجب ہوئیں۔اگر انگریز وقت پر کام کرتے اور اپنی تجویز کے مطابق ہندوستانیوں کو ان کے حقوق دیتے چلے جاتے تو آج سیاسی لوگوں کے دلوں میں انگریزوں کا بغض پیدا نہ ہوتا۔مگر اب ان کے دلوں میں یہ بغض اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اسے کسی طرح مٹایا نہیں جاسکتا۔چنانچہ ایسے وقت میں جبکہ جنگ کا خطرہ ہندوستان کے دروازوں تک پہنچ چکا ہے۔ملک کی اکثریت کی نمائندہ کا نگرس کا یہ فیصلہ کرنا کہ انگریز ہندوستان سے چلے جائیں ، بتاتا ہے کہ ان کے دلوں میں انگریزوں کا بغض اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ اب وہ اس بات کے لئے بھی تیار ہو گئے