خطبات محمود (جلد 23) — Page 353
$1942 353 خطبات محمود اس راستہ پر چلتے جو میں نے بتایا تھا تو آج انہیں یہ مشکلات پیش نہ آتیں۔آج سے پچیس سال پہلے 1917ء میں جب ہندوستان میں سیاسی حقوق کے متعلق پکار پید اہوئی اور مسٹر مانٹیگو وزیر ہند ہندوستان میں آئے تو اس وقت میں نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ سیاسی اصول کے پیچھے پڑنے کی بجائے آپ عام لوگوں کے اضطراب اور بے چینی کی اصل وجوہ معلوم کریں اور میں نے انہیں بتایا کہ منجملہ اور وجوہ کے اصل سوال ہندوستانیوں کی روٹی کا ہے۔عام لوگوں کو اس امر سے کوئی تعلق نہیں کہ کو نسلوں کی کیا شکل ہو اور ہندوستانیوں کو اس وقت کیا اختیارات ملنے چاہئیں بلکہ ان کے سامنے سب سے اہم سوال اپنی روٹی کا ہے۔اس لئے بجائے کو نسلیں بنانے کے بعض بڑے بڑے عہدے ہندوستانیوں کے سپر د کر دیئے جائیں اور جلد سے جلد سول سروس کو خالص ہندوستانی بنا دیا جائے۔اس طرح جوں جوں یہ عہدے ان کے سپر د ہوتے جائیں گے ، وہ آئندہ حکومت کے لئے تیار ہوتے چلے جائیں گے اور حکومت سنبھالنے کے وہ اہل ہو جائیں گے۔اس کے بر خلاف کو نسلوں میں بے اختیار اور صرف بحث مباحثہ کے عادی ہندوستانی حکومت کی قابلیت کبھی پیدا نہ کریں گے اور صرف حکومت کے پہلو میں ایک کا نثا ثابت ہوں گے اور ایسے مشکل وقت میں جبکہ ہندوستانیوں کی روٹی کا سوال ہی حل نہیں ہوا، وہ نہ تو صحیح مشورہ دے سکیں گے اور نہ صحیح مشوروں کے مطابق عمل کر سکیں گے۔مگر وہ اس وقت اسی شوق میں رہے کہ کچھ حقوق ہندوستانیوں کو کو نسلوں میں دے دیئے جائیں اور بنیاد کی بجائے اوپر کے چوبارے تیار ہو جانے چاہئیں۔اس تجویز کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستانیوں کی زبان تو کھول دی گئی مگر ان کے دماغ کی تربیت کے لئے کوئی سامان نہ پیدا کیا گیا حالانکہ اگر اس وقت زیادہ تر عہدے ہندوستانیوں کے سپر د کر دیئے جاتے تو آہستہ آہستہ تمام عہدوں پر ہندوستانی قابض ہو جاتے اور ان کے دلوں میں انگریزوں کے متعلق کینہ اور بغض پیدا نہ ہوتا۔مگر آج یہ حالت ہے کہ ہر نئے تغیر پر ہندوستانی یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم لڑے ، ہم نے مارا اور ہم نے انگریزوں سے اپنا فلاں فلاں حق چھین لیا۔وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم بالغ ہوئے اور ہمارے سیاسی والدین نے ہمارا حصہ ہم کو دے دیا بلکہ ان کا ذہن صرف اس طرف جاتا ہے کہ ہم انگریزوں سے لڑے، ہم نے انہیں مارا اور ان سے اپنے فلاں فلاں