خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 355

خطبات محمود 355 * 1942 ہیں کہ چاہے انہیں حکومت ملے یا نہ ملے، انگریز ضرور تباہ ہو جائیں۔جب انسان مایوس ہو جاتا ہے تو اس کا دل غصے سے بھر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اگر مرتا ہوں تو بے شک مر جاؤں مگر میرے ساتھ میرا دشمن بھی مر جائے۔ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ایک کبڑی عورت سے کسی نے پوچھا کہ کیا تیر ادل چاہتا ہے تیری کمر سیدھی ہو جائے۔اس کے جواب میں بجائے اس کے کہ وہ یہ کہتی کہ میرا دل چاہتا ہے میری کمر سیدھی ہو جائے ، وہ کہنے لگی میرا دل تو یہ چاہتا ہے کہ باقی لوگ بھی میری طرح کبڑے ہو جائیں۔لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو یہ کیوں کہتی ہے۔یہ کیوں نہیں کہتی کہ میرا کبڑا پن دور ہو جائے۔اس نے جواب دیا کہ میرے کبڑے پن کا کیا ہے۔میں نے اپنی زندگی کے بہت دن گزار لئے اور جنہوں نے مجھ پر ہنسنا تھا، ہنس لیا۔اب تو میں چاہتی ہوں کہ اور لوگ بھی کبڑے ہوں اور میں بھی ان کو دیکھ دیکھ کر ہنسوں۔یہی حالت اس وقت ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کی ہو گئی ہے۔وہ منہ سے کہیں یا نہ کہیں اور در حقیقت سیاسی آدمیوں کا اعتبار بھی کوئی نہیں ہو تا۔وہ منہ سے کچھ کہتے ہیں اور ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔لیکن واقعات نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ دشمن ہندوستان کے دروازوں تک پہنچ چکا ہے ان کا یہ فیصلہ کرنا کہ جنگ میں انگریزوں کو کوئی مدد نہ دی جائے بلکہ انہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے، بتاتا ہے کہ مایوس ہو جانے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو دوسروں کے غلام تھے ہی، ہمارے لئے اب خوشی کا ایک ہی مقام ہے کہ انگریز بھی مریں اور دوسروں کے غلام بنیں۔یہ ذہنیت کتنی خطر ناک ہے بلکہ مذہبی نقطہ نگاہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہت ہی گندی ذہنیت ہے۔مذہب انسان کو یہی سکھاتا ہے اور اخلاق انسان سے اسی بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جب کوئی مصیبت کا وقت آئے تو وہ پرانے گلے بھول جائے مگر کتنے ہیں جو ایسے موقعوں پر پر انے شکوے بھول جاتے ہیں۔بہت کم اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے اس مقام پر ہوتے ہیں کہ ایک لمبی شکایت کو صلح کے حصول کے لئے بھول جائیں۔بیشتر حصہ لوگوں کا ایسا ہی ہوتا ہے جو منہ سے صلح صلح پکارتا ہے مگر ان کا دل یہی چاہتا ہے کہ جیسے دوسروں نے ہم کو ستایا ہے اسی طرح ان کو ستایا جائے، جیسے انہوں نے ہم کو غلام بنایا ہے اسی طرح ان کو غلام بنایا جائے اور جیسے انہوں نے ہم کو مارا ہے اسی طرح ان کو مارا جائے۔