خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 352

* 1942 352 خطبات محمود ان سے لمبی قربانیاں لی جائیں، لوہے کی چٹکیوں سے ان کے گوشت نوچے جائیں ، ان کی آنکھیں نکال لی جائیں اور ان کے ناک اور کان کاٹ لئے جائیں تو گو وہ مریں گے نہیں مگر ان میں سے بہت سے لوگ جو جان دینے کے لئے تیار تھے ، واویلا کرنے لگ جائیں گے اور معافی کے خواستگار ہو جائیں گے کیونکہ چھوٹی اور لمبی قربانی وقتی قربانی سے زیادہ ہیبت ناک اور خطر ناک ہوتی ہے۔پس میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں نے قربانی کے وعدے کئے ہیں ان میں سے کتنے اس وعدے پر قائم رہ سکتے ہیں۔میں ان سب کو دیانتدار سمجھتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے یہ وعدے سچائی کے ساتھ کئے ہیں مگر پھر بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ وقت پر کتنے لوگ ہوں گے جو واقع میں قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔شاید تم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے موجودہ واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال کر لیا ہو گا کہ جو فتنہ اٹھا تھا وہ اب دب چکا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنہ دبا نہیں اور دب نہیں سکتا۔ہندوستان کی آزادی کا سوال اتنے لمبے عرصہ سے دنیا کے سامنے آرہا ہے۔اتنی مشکلوں اور اتنی صورتوں میں لوگوں کے سامنے آ رہا ہے اور اس طرح متواتر لوگوں کے دماغوں میں اس سوال نے چکر لگایا ہے اور پھر اس قدر لمبے عرصہ سے ہندوستان اور انگلستان کے لوگوں میں اس مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے کہ اب ان خیالات کو دلوں سے نکال دینا بالکل ناممکن ہے۔اسی طرح ہندو مسلم سوال پر سالہا سال سے بحث ہو رہی ہے اور یہ سوال بھی مختلف شکلوں میں لوگوں کے سامنے آتا رہا ہے۔مختلف صورتوں میں لوگوں کے سامنے آتا رہا ہے اور مختلف پیرایوں میں لوگوں کے سامنے آتا رہا ہے۔اس لئے اب لوگوں کے دلوں سے ان خیالات کا نکال دینا بالکل ناممکن امر ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ کسی سختی سے یا گر فتاری سے یا سزاؤں کے خوف سے سیاسی ہندوستانیوں کے دلوں سے یہ احساس مٹ جائے گا کہ ہندوستان کو آزاد ہونا چاہئے یہ ایک طفلانہ حرکت اور بچوں کا سا خیال ہے۔جو آگ لگ چکی ہے یہ اب بجھ نہیں سکتی، جو فتنہ اٹھ چکا ہے یہ اب دب نہیں سکتا۔اس آگ کو بجھایا جا سکتا تھا، اس فتنہ کو مٹایا جاسکتا تھا مگر آج سے کئی سال پہلے۔اس وقت انگریزوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ ہندوستانیوں کو معمولی معمولی حقوق دے کر مطمئن کر دیں گے حالانکہ اس وقت اگر وہ صحیح طریق اختیار کرتے اور