خطبات محمود (جلد 23) — Page 351
* 1942 351 خطبات محمود جائے گا اس کی وہ پوری طرح تعمیل کریں گی۔میں سمجھتا ہوں جن جماعتوں نے ریزولیوشنوں کی صورت میں ایسے اقرار نہیں کئے وہ بھی جس حد تک دوسروں نے اقرار کئے ہیں ان اقراروں میں شامل ہیں۔ان کا ایسے جلسے کر کے ریزولیوشن پاس نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے سمجھا اس قسم کے ریزولیوشنوں کی ضرورت ہی نہیں جبکہ وہ بیعت کر چکے اور احمدیت میں شامل ہو چکے ہیں مگر میرے نزدیک ان اقرار کرنے والوں کے سامنے بھی پورے طور پر اُن قربانیوں کا نقشہ نہیں آیا جن کو میں نے اپنے اعلان میں مد نظر رکھا ہے۔اس لئے میں ابھی تک نہیں کہہ سکتا کہ ان اقراروں کی قیمت کیا ہے۔بسا اوقات انسان ایک چیز کو چھوٹی سمجھتا ہے اور اسے کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بسا اوقات انسان ایک وقتی قربانی کے لئے تیار ہو جاتا اور اسے دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے لیکن ایک لمبی اور بظاہر نسبتاً چھوٹی قربانی کرنی اس کے لئے بہت مشکل ہوتی ہے مثلاً تحریک جدید ہی ہے۔میں ہمیشہ خیال کیا کرتا ہوں کہ اگر جان دینے کا سوال ہوتا تو صرف پانچ ہزار مرد و عورت اپنے آپ کو پیش نہ کرتے جیسے تحریک جدید میں قریباً اتنے ہی لوگوں نے حصہ لیا ہے بلکہ پندرہ، ہیں، تمھیں بلکہ چالیس ہزار آدمی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے مگر یہ قربانی چونکہ لمبی اور متواتر دس سال کے لئے تھی اس لئے بہت سے ایسے لوگ جو ہمیشہ اپنی جان اور مال قربان کرنے کے دعوے کرتے رہتے تھے ، پیچھے رہ گئے اور جو شامل ہوئے ان میں سے بھی ایک معتد بہ حصہ ایسا ہے جس نے قانون سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو تحریک جدید میں شامل کر لیا ہے ورنہ در حقیقت وہ شامل نہیں کیونکہ ان کی آمدنیوں کے مقابلہ میں ان کی قربانیاں بہت ہی حقیر اور معمولی ہیں۔بے شک انسانی قانون کو انہوں نے پورا کر دیا ہے لیکن خدائی قانون کے ماتحت انہوں نے آنے کی کوشش نہیں کی۔پس یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو ہمیں قربانی کے میدان میں دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے لوگ وقتی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ انسان سمجھتا ہے میں نے ایک دفعہ قربانی کی تو معاملہ ختم ہو جائے گا چنانچہ لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ اس غرض کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ ان کی گردنوں پر خنجر پھیر دیا جائے لیکن اگر انہی کو قید خانوں میں ڈال کر