خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 319

* 1942 319 خطبات محمود جنہوں نے پہلی جنگ کو آخری سمجھ لیا۔وہ کہتے ہیں کہ آج ہمیں جس قدر مشکلات پیش آرہی ہیں وہ سب انہی ناواقف اور جاہل لوگوں کی وجہ سے ہیں جنہوں نے پہلی جنگ کو ہی آخری سمجھ لیا۔یہی حال مسلمانوں کا تھا۔انہوں نے بھی پہلی لڑائی کو آخری سمجھ لیا اور اس بات پر فخر کرنے لگے کہ ہم نے ستر سال تک دشمن کا مقابلہ کیا ہے حالانکہ وہ ستر سال تو ابتدا تھی اور اس سات سو سال کی جنگ کا دسواں حصہ تھا۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس جنگ سے سبق حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔اس کا ہر پہلو بُرا ہے مگر برا بھی ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔پہلی لڑائی کے 25 سال بعد ہی جرمنی نے پھر لڑائی شروع کر دی اور یہ بہت بری بات ہے مگر اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہو سکتا ہے کہ دشمن کی شکست پر تسلی نہیں پانی چاہئے کیونکہ کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر بھی سر اٹھا سکتا ہے۔پھر لڑنے والی قوموں کے افراد قربانیاں کر رہے اور تکالیف اٹھا رہے ہیں۔ہمیں بھی اس سے یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ ہم بھی دین کے لئے قربانیاں کریں جر من مائیں اپنے بچوں کو قربان کر رہی ہیں، جر من تاجر اپنی تجارتوں کو تباہ کر رہے ہیں اور عوام طرح طرح کی تکالیف اٹھا رہے ہیں اور ہم اگر ان سے زیادہ قربانیاں کریں تبھی خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔اگر ان کے برابر ہی کریں تو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہوا ؟ اور اگر ان سے کم کریں تو نہایت ہی شرمناک بات ہو گی۔پس ہمیں ان سے بہت زیادہ قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ جماعت میں ایسے ہیں جو کسی تحریک پر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ چندے ہی مانگے جاتے ہیں۔کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ دس یا پندرہ سال تک چندہ دینے کے بعد پھر ان سے نہ مانگا جائے ؟ وہ اس کو بڑی قربانی سمجھتے ہیں کہ چند سال تک چندہ دے دیا مگر ہم کہتے ہیں کہ دس یا پندرہ سال تو کیا اگر تم اس اصول پر قائم رہو تو پندرہ سو سال تک بھی چندے دینے پڑیں گے۔پندرہ سال کے بعد چندوں کا سلسلہ ختم سمجھنے کے یہ معنے ہیں کہ ایسا شخص زندگی کے پندرہ سال ہی سمجھتا ہے حالانکہ اگر احمدیت دس ہزار سال تک رہنی ہے تو ہر ایک دن قربانی کا مطالبہ ہو تا رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی صوفی کا یہ