خطبات محمود (جلد 23) — Page 318
خطبات محمود 318 * 1942 دل میں یہ عزم ہو تا کہ یہ قبضہ نہیں ہونے دینا تو یہ کبھی نہ ہو سکتا اور مسلمانوں کو یہ ذلت پر ذلت نہ اٹھانی پڑتی۔مگر افسوس کہ مسلمان ایک لڑائی کے بعد غافل ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے حالانکہ دشمن نے دوسرے طریق پر حملہ شروع کر دیا تھا۔دشمن نے سوچا کہ مسلمان کیوں فتح پاتے ہیں اور ہمیں کیوں شکست پر شکست ہوتی ہے؟ اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کے پاس تجارت ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی تجارت کی طرف متوجہ ہوں گے۔انہوں نے سوچا کہ مسلمانوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں یو نیورسٹیاں ہیں اور وہ علم پڑھتے ہیں چنانچہ انہوں نے خود بھی یونیورسٹیاں قائم کیں اور نئی نئی ایجادوں کی طرف متوجہ ہوئے۔انہوں نے سوچا کہ مسلمان اس واسطے ہم پر غالب آ جاتے ہیں کہ ان کے پاس سمندری بیڑا ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی اب اپنا بیڑا بنائیں گے نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے بیڑے چھوٹے ہوتے گئے اور ان کے بڑھتے گئے۔مسلمانوں کی تجارت گرتی گئی اور ان کی بڑھتی گئی۔مسلمانوں کی یونیورسٹیاں بند ہوتی گئیں اور ان کی ترقی کرتی گئیں۔وہ لوگ مسلمانوں کے ملک میں آئے اور جس طرح میں نے بتایا ہے کہ ہر اول دستے دشمن کی فوج کی کمزوریوں سے اپنی فوج کو اطلاع دیتے ہیں۔یہی کام انہوں نے کیا، یہاں سے وہ خبریں لے کر جاتے اور اپنے لوگوں کو مسلمانوں کی طاقت کے مرکزوں سے آگاہ کرتے۔اس طرح انہوں نے اپنے لئے طاقت کے سامان پیدا کر لئے اور مسلمانوں نے وہ سامان کھو دیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان غلام ہو گئے اور وہ غلام قومیں بادشاہ بن گئیں۔اگر مسلمان بھی سات سو سال تک جنگ کو جاری رکھ سکتے تو آج دشمن شام پر قابض نہ ہو تا بلکہ آج فرانس اور جرمنی میں بھی اسلامی پرچم لہرا رہے ہوتے۔اس وقت مسلمانوں کے پاس طاقت اور قوت تھی اور اگر وہ دھاوا بولتے تو بآسانی ان ملکوں کو فتح کر سکتے تھے مگر افسوس کہ مسلمانوںں نے ایک ہی لڑائی پر جنگ کا خاتمہ سمجھ لیا۔یورپ کی لڑائیاں جو بہت چھوٹے چھوٹے اصولوں کے لئے ہوتی ہیں، لمبے عرصہ تک چلی جاتی ہیں۔انگلینڈ اور جرمنی کی لڑائی چھوٹے چھوٹے اصولوں کے لئے ہی ہے۔مگر ایک کے بعد دوسری جنگ اب ہو رہی ہے۔آج انگلستان کے لوگ گالیاں دیتے ہیں ان لوگوں کو