خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 320

خطبات محمود معلوم 320 * 1942 مقولہ سنایا کرتے تھے کہ جو دم غافل سو دم کافر۔غفلت تو انسان کو کفر کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔پس یہ خیال کرنا کہ فلاں قربانی کے بعد اور قربانی نہ کرنی پڑے گی بالکل غلط ہے۔کیا کہ اگلا مطالبہ اس سے بھی سخت ہو۔اگر آج روپیہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کل ممکن ہے جائداد کا کرنا پڑے اور پرسوں ممکن ہے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان کی قربانی دینی پڑے۔جو شخص مومن کہلاتا ہے وہ یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ کوئی دن ایسا آئے گا کہ قربانی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ احمق ہے۔کیا نماز، زکوۃ، صدقہ اور دوسرے احکام کا دروازہ کبھی بند ہوتا ہے جو قربانی کا بند ہو جائے۔خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔کیا کبھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو حکم دیا ہے کہ تم نے دس سال تک سچ بولا ، اب دو چار سال جھوٹ بول سکتے ہو ؟ پندرہ سال تک تم نے لوگوں کے اموال کی حفاظت کی اب تمہیں اجازت ہے کہ کچھ عرصہ ڈاکے مار لو اور لوگوں کے اموال لوٹ لو ؟ پس کوئی شخص یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ قربانیاں دس پندرہ سال تک ہیں اس کے بعد یہ بند ہو جائیں گی۔یاد رکھو کہ قربانیاں ہمیشہ رہیں گی۔ہاں ان کی شکلیں بدلتی رہیں گی۔جس دن قوم کے افراد کی کثرت قربانی کی روح سے محروم ہو جائے گی وہ دن اس قوم کی موت کا دن ہو گا۔اور جو شخص اس دن کا منتظر ہے جس دن قربانیوں کا سلسلہ بند ہو جائے وہ گویا اس دن کا منتظر ہے جس دن احمدیت مر جائے۔پہلی قومیں اسی طرح مری ہیں اور ہماری موت بھی اگر ہوئی تو اسی وجہ سے ہو گی۔قربانیاں قوموں کا سانس ہوتی ہیں جس طرح سانس جب تک چلتا ہے تب تک انسان زندہ رہتا ہے اسی طرح جب تک کسی قوم میں قربانیوں کی روح زندہ رہتی ہے تب تک وہ قوم بھی زندہ رہتی ہے۔پس لڑائی سے سبق حاصل کرو اور ایسے خیالات کو ہر گز پاس نہ آنے دو کہ کسی وقت قربانیوں کا مطالبہ ختم ہو جائے گا بلکہ ہمیشہ یہ خیال رکھو کہ کل آج سے زیادہ قربانی کرنی پڑے گی۔اسی لئے میں نے تحریک جدید میں یہ بات رکھی تھی کہ چاہے کوئی شخص ایک پیسہ ہی بڑھائے گزشتہ سال سے زیادہ ضرور دے تا اس کے ہر سال کی قربانی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہو۔پس یہ کبھی خیال نہ کرو کہ یہ قربانیاں بوجھ ہیں جو تم کو کچل دیں گی بلکہ یاد رکھو کہ یہ