خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 313

* 1942 313 خطبات محمود وہ پھر سنبھل گئے اور واپس میدان میں آ پہنچے اس کے سوا کوئی اور مثال نہیں کہ مسلمان میدان سے ہٹے ہوں۔قرآن کریم میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مومن وہی ہے جو میدان جنگ سے نہیں ہٹتا سوائے حملہ کرنے کی غرض سے یا بڑے لشکر سے ملنے کے لئے، شکست کھا کر وہ پیچھے نہیں ہٹتا۔2 اور شکست کھانے والا مومن ہوتا ہی نہیں۔حملہ کرنے کے لئے ہٹنا تو جنگ ہی کا حصہ ہے۔ایک شخص دیکھتا ہے کہ اس جگہ کھڑے ہو کر میر الڑ نا اتنا مفید نہیں ہو ہے۔ایک سکتا جتنا فلاں جگہ پہنچ کر لڑنا مفید ہو سکتا ہے وہاں جا کر میں دشمن کو کمزور کر سکتا ہوں پس اس غرض سے وہ اگر پیچھے ہٹتا ہے تو یہ جائز ہے۔اسی طرح بڑے لشکر سے ملنے کے لئے ہٹنا بھی جائز ہے اور وہ اس طرح کہ اصل لشکر سے آگے ہر اول دستے ہوتے ہیں پہلے زمانوں میں بھی ہوتے تھے اور آجکل بھی۔ان کے لئے یہ حکم نہیں ہوتا کہ وہ دشمن سے لڑیں بلکہ ان کی ڈیوٹی صرف یہ ہوتی ہے کہ دشمن کی کمزوریاں معلوم کریں اور اصل فوج کو بتائیں وہ ہیں تھیں پچاس یا سو دو سو آدمی ہوتے ہیں جو اس بات کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس جگہ سے دشمن پر حملہ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔وہ یہ پتہ لے کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ دشمن کی پیدل فوج زیادہ ہے، فلاں جگہ سوار زیادہ ہیں، فلاں جگہ ٹینک اور فلاں جگہ تو ہیں زیادہ ہیں اور کمانڈر انچیف ان سب اطلاعات کو ملا کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کیا وہاں حملہ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے جہاں پیدل فوج زیادہ ہے یا وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں سوار ہیں۔وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں تو پیں ہیں یا وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں ٹینک ہیں۔ہر اول دستہ کی فراہم کردہ اطلاعات سے وہ پہلے ایک نقشہ جنگ تیار کرے گا اور پھر اس کے ماتحت حملہ کرے گا اس لئے ہر اول دستوں کا پیچھے ہٹنا شکست نہیں کہلا سکتا بلکہ ضروری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سوائے ان دو صورتوں کے اور کوئی صورت مومن کے لئے میدان سے پیچھے ہٹنے کی نہیں اور جو ہٹتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نقشہ کھینچا ہے ہر زمانے کے کافروں اور مومنوں کے لئے۔وہ مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ جنگ میں کا فر بھی مرتے ہیں اور تم بھی مرتے ہو ، وہ بھی بھوکے رہتے ہیں اور تم بھی رہتے ہو ، وہ بھی قیدی بنتے ہیں اور تم بھی ہو سکتے ہو ، جو مصائب اور مشکلات تم اٹھاتے ہو وہی وہ بھی اٹھاتے ہیں۔اس لحاظ سے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں مگر