خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 312

* 1942 312 خطبات محمود ہر تکلیف دین کی راہ میں اٹھانے کی خواہش رکھتے ہیں مگر معذوری کی وجہ سے مجبور ہیں۔ان کی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے مر جانے کی خواہش ایسی ہی زبر دست ہے جیسی تمہاری مگر وہ اندھے، ٹولے یا لنگڑے ہیں اس وجہ سے جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے۔وہ امنگ جو تمہارے دلوں میں پیدا ہوتی ہے ان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتی ہے مگر وہ معذوری کی وجہ سے تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے۔اس لئے جو ثواب تمہیں جسمانی تکالیف اٹھانے کی وجہ سے ملتا ہے وہ ان کو روحانی تکلیف کی وجہ سے مل جاتا ہے۔مگر ابو جہل کو ناکارہ ہو جانے کی صورت میں ایسی کوئی امید کہاں ہو سکتی تھی۔حضرت ابو بکر جانتے تھے کہ اگر لڑائی میں ایسے زخمی ہو گئے کہ تمام عمر چار پائی پر ہی پڑے رہیں تو بھی ان کے لئے روحانی اور قلبی کیفیات کا ذریعہ ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس سے وہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ کارآمد اور مفید بنالیں گے۔اگر ابو جہل یہ سمجھتا تھا کہ لڑائی میں شکست بھی ہو سکتی ہے تو ابو بکر بھی یہ خیال کر سکتے تھے مگر فرق دونوں میں یہ ہے کہ ابو جہل سمجھتا تھا کہ مجھے بھی شکست ہو سکتی ہے لیکن ابو بکر کامل مومن تھے اور اس لئے وہ کبھی یہ مان ہی نہ سکتے تھے کہ مجھے بھی شکست ہو سکتی ہے۔مومن جانتا ہے کہ میرے لیے دو ہی صورتیں ہیں یعنی یا یہ کہ مرکر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں اور یا پھر فتح حاصل کروں۔حضرت ابو بکر لڑائی میں شکست کے تو قائل تھے مگر مومن کی شکست کے نہیں ہاں وہ مومن کی شہادت کے قائل تھے۔وہ جانتے تھے کہ مومن کبھی میدان سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔وہ یا تو فتح کے قائل تھے اور یا شہادت کے اور ایسے لوگ اگر مارے بھی جائیں تو جس طرح ان کی زندگیاں دوسرے لوگوں کے قلوب میں امنگوں کو تیز کرنے کا موجب ہوتی ہیں اور دوسروں کے لئے شمع راہ ہوتی ہیں اسی طرح وہ مر کر بھی انہی باتوں کا سامان کر دیتے ہیں۔صحابہ کو اتفاقی حوادث کے سوا کبھی شکست نہیں ہوئی۔بے شک احد میں انہیں پیچھے ہٹنا پڑا مگر شکست نہیں ہوئی بلکہ پیچھے ہٹ کر بھی وہ میدان جنگ کے ارد گرد ہی منڈلاتے رہے۔دنیا میں ان کے سوا اور کون سی قوم پیش کی جاسکتی ہے جسے بظاہر شکست ہو جائے اور پھر بھی وہ میدان سے نہ ہٹے۔حنین میں بھی انہیں ایک اتفاقی حادثہ پیش آیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تقدیر کے طور پر کچھ عرصہ کے لئے ان کے قدم اکھڑ گئے مگر چند منٹ کے بعد ہی