خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 314

* 1942 314 خطبات محمود فرق ہے بھی اور وہ یہ کہ تمہارے لئے تمہارے خدا نے ایسے وعدے کر رکھے ہیں کہ جن کی موجودگی میں تم خدا تعالیٰ کے رستہ میں موت کو انعام سمجھتے ہو اور سزا یا تکلیف نہیں سمجھتے مگر کافروں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا وعدہ نہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی ال نیم کے زمانہ میں ایک صحابی لڑائی میں شہید ہو گئے۔آپ نے ان کے لڑکے کو دیکھا کہ چہرہ پر غم کے آثار تھے۔آپ نے ان کو بلایا اور فرمایا تمہیں اپنے باپ کی شہادت کا غم ہے۔تم کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ شہادت کے بعد تمہارے باپ سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا تو یہ سب غم فوراً ہلکا ہو جائے۔تمہارے باپ کی روح کو اللہ تعالیٰ نے سامنے بلایا اور فرمایا کہ میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ تم مجھ سے جو کچھ مانگو میں دوں گا۔تمہارے باپ نے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ تو مجھے پھر زندہ کرے اور میں پھر اسلام کے لئے لڑ کر مارا جاؤں اور تو پھر مجھے زندہ کرے اور میں پھر مارا جاؤں اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہے تو مجھے بار بار زندہ کرتا جائے اور میں ہر بار اسلام کے لئے لڑتا ہو امارا جاؤں۔اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر میں اپنی جان کی قسم کھا کر یہ سنت نہ قائم کر چکا ہوتا کہ مر دوں کو اس دنیا میں واپس نہیں کروں گا تو میں تمہیں ضرور زندہ کر دیتا مگر میر اوعدہ ہے کہ مر دے اس دنیا میں واپس نہ جاسکیں گے۔3 اس حدیث کو ہماری جماعت اس بات کی دلیل کے طور پر ہمیشہ استعمال کرتی ہے کہ حقیقی مر دے اس دنیا میں واپس نہیں آسکتے مگر اس سے ایک اور سبق یہ ملتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے جو تکالیف اٹھاتے ہیں وہ ان پر گراں نہیں گزر تیں بلکہ وہ ان کو بار بار اٹھانا چاہتے ہیں۔پس ہمیں اس لڑائی سے یہ سبق بھی حاصل کرنا چاہئے کہ لڑنے والی قوموں کے افراد چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لئے یہ تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ستمبر 1939ء کے شروع میں یہ لڑائی شروع ہوئی تھی۔اس کے بعد ستمبر 1940ء آیا۔پھر ستمبر 1941ء اور اب ستمبر 1942ء سر پر کھڑا ہے۔تین سال ہونے کو آئے ہیں اور جو لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ متواتر تین سال سے دن رات تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔تو پوں کے گولوں اور بموں سے ان کے کانوں کے پر دے پھٹ رہے ہوں گے ، ان کو زمین پر سونا پڑتا ہے، بوجھ اٹھانے پڑتے ہیں، راتوں کو جاگنا پڑتا ہے، بھوکا رہنا