خطبات محمود (جلد 23) — Page 252
خطبات محمود 252 * 1942 اور بعض دفعہ ان پر جانیں دے دیتے ہیں اور وہی بچے جو اپنے ماں باپ سے محبت رکھتے بلکہ بعض دفعہ ان کے لئے جانیں دے دیتے ہیں۔اگر موت نہ ہو تو ایک دوسرے کو کاٹ کاٹ کر کھانے کی کوشش کریں۔تم اندازہ کر لو کہ آدم سے لے کر آج تک کے آدمی نہیں بلکہ صرف دو صدیوں کے آدمی ہی جمع ہو جائیں تو دنیا میں رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ رہے۔دنیا میں انسان کی اوسط عمر 30 سال ہے اور اگر دو صدیوں کے لوگ جمع ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ موجودہ آبادی سے سات گنا آبادی دنیا کی بڑھ جائے گی۔اب سمجھ لو کہ اگر ایسا ہی ہو جائے تو وہ زمیندار جن کے پاس چار چار پانچ پانچ ایکٹر زمین ہے ان کے پاس صرف پانچ پانچ سات سات کنال رہ جائے اور جن کے پاس صرف پانچ پانچ چھ چھ کنال زمین ہے۔ان کے پاس تو بارہ بارہ تیرہ تیرہ مرلہ زمین رہ جائے بلکہ یہ بھی میں نے غلط اندازہ لگایا ہے کیونکہ یہ صرف پیدا ہونے والے بچوں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔مُردہ پیدا ہونے والے بچوں یا اسقاط والے بچوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔اگر ان سب کو شامل کر لیا جائے تو جن کے پاس آج پانچ پانچ گھماؤں زمین ہے۔ان کے پاس پونا پونا مرلہ رہ جائے اس سے اندازہ کر لو کہ اگر موت نہ ہو تو دنیا کی کیا حالت ہو جائے۔میں تو سمجھتا ہوں وہ ماں باپ جو آج اپنے بچوں پر جانیں دیتے ہیں شاید موت نہ ہونے کی صورت میں ان کے گلے کاٹنے کو دوڑتے کہ یہ کمبخت مرتے بھی نہیں۔اور وہی بچے جو اپنے ماں باپ پر جانیں فدا کرتے ہیں ماں باپ کو گالیاں دیتے کہ ہمارے لئے جگہ ہی خالی نہیں کرتے۔ساری محبتیں اور سارے پیار موت کے نتیجہ میں ہیں۔ماں باپ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں تو ان کے پیار کے پیچھے موت کا خیال ہوتا ہے کہ ایک دن ہم مر جائیں گے اور یہ ہمارا نام قائم رکھیں گے۔بچے اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں تو ان کی محبت کے پیچھے بھی موت کا خیال ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایک دن آئے گا جب ہمارے ماں باپ مر جائیں گے اور ہم ان کو یاد کیا کریں گے۔آؤ ہم اپنی زندگی میں ان کی کچھ خدمت کر لیں۔لیکن اگر موت نہ ہوتی تو نہ بچوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کی محبت ہوتی نہ ماں باپ کے دلوں میں اپنی اولاد کی محبت ہوتی۔سب ایک دوسرے کے دشمن ہوتے۔تو موت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت اور اس کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔موت اسی وقت