خطبات محمود (جلد 23) — Page 251
* 1942 251 خطبات محمود ہماری جماعت کی طرف سے فوج میں ایک احمدیہ ڈبل کمپنی پہلے سے موجود ہے۔مگر اب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک اور احمد یہ ڈبل کمپنی قائم کی جائے اور اس کے لئے اس نے رنگروٹ مانگے ہیں۔ناظر صاحب امور عامہ اس غرض کے لئے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں چنانچہ سیالکوٹ ، گوجرانوالہ ، شیخوپورہ اور گورداسپور کا دورہ کرنا ان کے مد نظر ہے۔بعض مقامات کا وہ دورہ کر چکے ہیں اور بعض جگہ وہ عنقریب دورہ کے لئے پہنچنے والے ہیں۔میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اس بھرتی کے کام میں دلچسپی لینی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اس غرض کے لئے پیش کرنے چاہئیں۔میرے نزدیک اگر صرف گورداسپور کے ضلع کے لوگ ہی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو تین ساڑھے تین سو آدمی صرف یہیں سے بھرتی ہو سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے بہت سے رنگروٹ ہماری جماعت کی طرف سے جاچکے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جو امن اور آرام اور نماز کی پابندی کی نعمت اور نیکی کی تحریک احمدیہ کمپنی میں میسر آسکتی ہے وہ کسی دوسری کمپنی میں میسر نہیں آ سکتی۔پھر سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ کوئی جماعت زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے افراد فوجی فنون کے ماہر نہ ہوں۔قوموں کے مرنے کی علامت یہی ہوا کرتی ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں میں بڑھ جاتا ہے اور قوموں کی زندگی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے جو قومیں موت کا خوف اپنے دلوں میں بڑھا لیتی ہیں وہ کبھی فاتح نہیں ہو سکتیں اور جن قوموں کے دلوں میں سے موت کا خوف مٹ جاتا ہے۔انہیں کوئی مفتوح نہیں کر سکتا۔یہودیوں کو ہی دیکھ لو اب ان کی کہیں حکومت نہیں اور جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ان میں سب سے بڑا نقص یہی ہے کہ وہ موت سے بے حد ڈرتے ہیں اور ان میں سے ہر شخص کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہزار سال تک زندہ رہے مگر فرماتا ہے اگر کوئی ہزار سال بھی زندہ رہا تو کیا ہے آخر ایک دن اس نے مرنا ہے اور جب سے کہ انسان پیدا کیا گیا ہے وہ موت کا شکار ہوتا چلا آیا ہے بلکہ جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے۔موت بھی خدا تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔اگر موت نہ ہو تو دنیا پر ایسا عذاب آجائے جو انسانی طاقت برداشت سے بالکل باہر ہو جائے۔وہی ماں باپ جو اپنے بچوں سے پیار کرتے