خطبات محمود (جلد 23) — Page 253
* 1942 253 خطبات محمود بری معلوم ہوتی ہے جب اس کی ضرورت اور حاجت مٹ جائے اسی لئے خدا تعالیٰ نے جنت میں موت نہیں رکھی۔کیونکہ جنت میں رزق دینا خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھا ہوا ہے کسی انسان کے ذمہ نہیں کہ وہ دوسروں کو رزق دے۔وہاں یہ سوال نہیں ہو گا کہ فلاں مر جائے تاکہ اس کا لقمہ میرے منہ میں پڑے بلکہ وہاں ہر ایک کے لئے خدا نے خود انتظام کیا ہوا ہو گا۔اس لئے وہاں باوجو دموت نہ ہونے کے عداوت نہیں ہو گی بلکہ سب محبت اور پیار سے رہیں گے۔تو جنت میں سے موت کو مٹا دینا اور دنیا میں موت کو رکھنا اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتوں میں سے ہے۔دنیا میں چونکہ احتیاج ہے اس لئے ضروری تھا کہ یہاں موت ہو مگر جنت میں چونکہ احتیاج نہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ وہاں موت نہ ہو بلکہ جو لوگ دوزخ میں جائیں گے انہیں بھی کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نکال کر جنت میں لے آئے گا اور کسی کو بھی گھبر اہٹ نہیں ہو گی کہ ان کے آنے سے ہمارے رزق میں کمی ہو جائے گی۔تو موت ایسی چیز نہیں جس سے ہمارے دلوں میں کوئی گھبراہٹ پید اہو سکے۔ہم سے پہلے لوگ مرتے چلے آئے، ہم مر جائیں گے اور ہمارے بعد آنے والے بھی مر جائیں گے۔صرف فرق یہ ہے کہ ایک شخص عزت کی موت مرتا ہے اور ایک شخص ذلت کی موت مرتا ہے جو شخص عزت کی موت مرتا ہے۔اس کا نام دنیا میں بھی رہ جاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی قائم رہتا ہے اور جو شخص ذلت کی موت مرتا ہے اس کا نام دنیا میں بھی مٹ جاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔لڑائیوں میں ہی دیکھ لو۔قید وہی ہوتے ہیں جو عزت کی موت مرنا نہیں جانتے۔جرمنوں کو دیکھو ہم ان کے افعال کو شدید نفرت سے دیکھتے ہیں مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بہادر ہیں۔اسی وجہ سے ان کے قیدی بہت کم پکڑے جاتے ہیں اس لئے کہ ہر لڑائی میں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم قید ہو گئے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمارے دشمن کی فوج بڑھ گئی مثلاً اگر دس ہزار آدمی قید ہو جاتے ہیں تو یہ دس ہزار قیدی دوسروں کے کام آتے ہیں اور دشمن کے بالمقابل دس ہزار آدمی دوسری جگہوں پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہو جاتے ہیں۔پس وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم قید ہو گئے تو اس کا دشمن کو فائدہ ہو گا اس کی دس ہزار فوج