خطبات محمود (جلد 23) — Page 174
* 1942 174 خطبات محمود قحط کا خطرہ ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آئندہ فصل اچھی کر دے اور جوار وغیرہ نکل آنے کی وجہ سے گندم سستی ہو جائے۔بہر حال ہم میں سے ہر ایک کو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے غریب بندے خدا تعالیٰ کے رزق کے ہم سے کم حصہ دار نہیں۔خدا کی نامعلوم کس حکمت نے ہم کو رزق دے دیا اور ان کو نہیں دیا۔شاید خد اتعالیٰ کو ہمارا امتحان منظور ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ ہم اس رزق کو کس طرح استعمال کرتے ہیں یا شاید بعض کے لئے اس میں سزا کا کوئی پہلو مخفی ہو یا شاید اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ہمیں ثواب دینا چاہتا ہو کہ چونکہ ان کو رزق نہیں ملا اس لئے تم ان کو رزق دے کر اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرو۔نہ معلوم ان تینوں باتوں میں سے کونسی بات اللہ تعالیٰ کے مد نظر ہے لیکن بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ غریب بندے خدا تعالیٰ کے رزق میں ہم سے کم حصہ دار نہیں اور ہم میں سے کوئی فرد ایسا نہیں جو بشر ہونے کے لحاظ سے ایک غریب پر فوقیت رکھتا ہو بلکہ بشر ہونے کے لحاظ سے نبی اور کافر بھی برابر ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی ا م سے فرماتا ہے کہ قُلْ إِنَّمَا انا بَشَرٌ مِثْلُكُم 5 یعنی اے رسول! کہہ دے۔ابو جہل سے کہہ دے، عتبہ سے کہہ دے، شیبہ سے کہہ دے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے میں تمہاری طرح ہی ہوں اور مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہے تو یہ کہ میں نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پالیا اور تم نے اس کا انکار کر کے اسے ناراض کر دیا۔اگر تم بھی نیکی اور تقویٰ اختیار کرو اور تم بھی قربانیوں میں حصہ لو تو اللہ تعالیٰ تم کو بھی ویسا ہی محبوب بنا سکتا ہے جیسے اس نے اور لوگوں کو بنایا۔آخر خدا نے ابو جہل کو ابو جہل اور ابو بکر کو ابو بکر اسی لئے بنایا کہ ابو بکر نے اپنی بشریت کا صحیح استعمال کیا اور ابو جہل نے صحیح استعمال نہ کیا۔اگر ابو جہل بھی اپنی بشریت کا صحیح استعمال کرتا تو وہ بھی ابو بکر بن جاتا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں جن کے ماتحت وہ کسی کو رزق دے دیتا ہے اور کسی کو نہیں دیتا۔یہ بات غلط ہے کہ اگر کوئی عالم ہو تو اسے رزق مل جاتا ہے اور اگر عالم نہ ہو تو رزق نہیں ملتا۔ہزاروں انٹرنس پاس ہیں جو چار چار پانچ پانچ سوروپیہ تنخواہ لے رہے ہیں اور ہزاروں بی۔اے اور ایم۔اے ہیں جنہیں نہیں ہیں تیس تیس روپے کی بھی نوکری نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو عارضی طور پر۔پس یہ کوئی خدا کی مشیت ہے جس کے ماتحت وہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا