خطبات محمود (جلد 23) — Page 173
خطبات محمود 173 * 1942 صورت میں وعدہ ہونا چاہئے۔یعنی چاہے تو کوئی ایک من غلہ دے دے، کوئی دو من غلہ دے دے، کوئی تین من غلہ دے دے اور کوئی چار من غلہ دے دے۔اگر وہ غلہ نہ دے سکیں تو انہیں رقم بھیج کر لکھ دینا چاہئے کہ ہمارے اس روپیہ سے اتناغلہ خرید کر غرباء کو دے دیا جائے۔قادیان سے باہر میری اپنی کچھ زمین ہے جو میں نے بٹائی پر دی ہوئی ہے اور کچھ گرو ہے جو پھر واپس مقاطعہ 2 پر لی ہوئی ہے چونکہ اس دفعہ بارش کی وجہ سے فصل کو نقصان ہوا ہے اس لئے اس کا مقاطعہ، اوپر کے اخراجات اور گورنمنٹ کا معاملہ وغیرہ ادا کر کے کوئی پچاس من کے قریب غلہ بچتا ہے۔میں نے رات یہ حساب کر کے فیصلہ کیا کہ یہ پچاس من غلہ میں اس چندے میں دے دیتا ہوں۔پانچ سو من غلے کا مطالبہ ہے جس میں سے پچاس من غلہ دینے کا میں نے وعدہ کیا ہے۔اب باقی صرف ساڑھے چار سو من غلہ رہتا ہے جو ساری جماعت کے لئے جمع کرنا کوئی مشکل نہیں۔ہو سکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بڑے آٹھ دس زمیندار ہی اس غلہ کو جمع کر دیتے مگر آٹھ دس آدمیوں کے حصہ لینے سے چونکہ ساری جماعت کو ثواب نہیں پہنچ سکتا تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کا عام اعلان کر دوں تاکہ جو دوست اس ثواب میں حصہ لینا چاہیں وہ لے لیں۔پس میں تحریک کرتا ہوں کہ قادیان کے وہ دوست جنہوں نے غلہ خرید لیا ہے یا غلہ کے لئے انہوں نے روپیہ کا انتظام کر لیا ہے۔وہ اپنے غریب بھائیوں کے لئے اپنے غلے کا چالیسواں حصہ بطور چندہ ادا کریں تا کہ مصیبت اور تنگی کے وقت غرباء کو کوئی تکلیف نہ ہو۔دیکھو مومنوں کے متعلق قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ وہ بھوک اور تنگی کے وقت غرباء کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔۔اور در حقیقت ایمان کے لحاظ سے یہی مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے مگر موجودہ زمانہ میں ہمیں وہ نمونہ دکھانے کا موقع نہیں ملتا جو صحابہ نے مدینہ میں دکھایا اس لئے ہمیں کم سے کم اس موقع پر غرباء کی مدد کر کے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چاہئے جو اسلام کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا ہے اور اگر ہم کوشش کریں تو اس مطالبہ کو پور ا کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔پانچ سو من غلے کا اندازہ بھی حقیقت کم ہے اور یہ بھی سارے سال کا اندازہ نہیں بلکہ آخری پانچ مہینوں کا اندازہ ہے جبکہ در