خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 175

خطبات محمود 175 * 1942 رہتا ہے۔ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو۔پس میں قادیان والوں کو بھی اور باہر کی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ غرباء کے لئے غلہ دیں اور جو لوگ غلہ نہ دے سکیں وہ رقم بھیج کر ہمیں اجازت دیں کہ ہم یہاں سے غلہ خرید کر ان کی طرف سے غرباء میں تقسیم کر دیں تاکہ وہ اس گندم کو ان ایام کے لئے سنبھال کر رکھ لیں جن میں گندم کی کمی اور قحط کا خطرہ ہے۔پھر میں باہر کی جماعتوں کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ اگر مقامی طور پر ان کی جماعتوں میں غریب احمدی ہوں تو وہ ان کا بھی خیال رکھیں۔صرف یہی نہیں کہ قادیان کے غرباء کا خیال رکھا جائے بلکہ ہر جگہ کے غرباء کا مقامی جماعتیں خیال رکھیں اور جو لوگ اپنے لئے غلہ جمع نہیں کر سکتے ان کے لئے کچھ حصہ اپنے غلے میں سے الگ کر دیں تاکہ وہ ان ایام میں اطمینان کے ساتھ روٹی کھا سکیں اور آج سے ہی ان کے دلوں میں یہ پریشانی پیدا نہ ہو کہ ہم مصیبت کے وقت کیا کریں گے۔یہاں کی جماعت کے دوستوں کو میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ غلہ خرید رہے ہیں وہ سخت غلط طریق اختیار کر رہے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ نظام سے فائدہ اٹھاتے بے تحاشا اِدھر اُدھر دوڑے پھرتے ہیں۔آپ لوگوں نے اجتماع اور نظام کا فائدہ دیکھا ہوا ہے۔ہماری جماعت کتنی چھوٹی سی ہے مگر نظام کی وجہ سے لوگوں پر اس کا بہت بڑا رعب ہے۔اسی طرح آپ کو نظام سے اپنے ہر کام میں فائدہ اٹھانا چاہئے اور بجائے انفرادی رنگ میں کوشش کرنے کے اجتماعی رنگ میں کام کرنا چاہئے۔اگر اکٹھے مل کر غلہ خریدا جاتا تو پونے چار روپے من تک مل جاتا مگر جو نہی لوگوں کو روپیہ ملا انہوں نے ادھر اُدھر دوڑنا شروع کر دیا۔باہر کے زمیندار اور سکھ ان کا عجیب نقشہ کھینچتے ہیں۔کہتے ہیں مولویوں نے بائیسکلوں پر بوریاں باندھی ہوئی ہوتی ہیں اور چاروں طرف دوڑتے پھرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ چھ دن کے اندر اندر ایک روپیہ قیمت بڑھ گئی کیونکہ بعض لوگوں نے تو گھبر ا کر اپنا غلہ روک لیا کہ نہ معلوم کیا مصیبت آنے والی ہے کہ یہ لوگ گندم خریدنے کے لئے دوڑے پھرتے ہیں اور جنہیں روپیہ کی ضرورت تھی انہوں نے گراں قیمت پر غلہ فروخت کرناشروع کر دیا۔اگر ایک کمیٹی بنائی جاتی اور وہ لوگوں کے لئے اکٹھا غلہ خریدتی تو پونے چار روپے من تک بسہولت