خطبات محمود (جلد 22) — Page 80
$1941 80 خطبات محمود احسان سمجھتا تو کبھی اس سلسلہ کو بند نہ کرتا۔کیونکہ کوئی انسان اپنے اوپر احسان کا دروازہ بند کرنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے کچھ مل ہی رہا ہے میرا نقصان نہیں ہو رہا۔میں نے دیکھا ہے ہمارے بعض دوست ان لوگوں کی ایسی باتوں سے چڑتے ہیں حالانکہ چڑنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ ہوشیار اور بیدار ہونے کی بات ہے۔ان باتوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گر جاؤ اور ہمیشہ استغفار کرتے رہو۔کسی نے کہا ہے کہ ، تب بھی ڈر ، نہ کر ، تب بھی ڈر۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا معاملہ بہت ہی نازک معاملہ ہے کیونکہ ایک طرف تو احسان ہی احسان ہے اور دوسری طرف ناشکری ہی ناشکری ہے۔انسان کتنی نمازیں پڑھے ، کتنے روزے رکھے، کتنے حج کرے کتنی زکوتیں دے، کتنا ذکر الہی کرے پھر بھی اللہ تعالیٰ کا احسان وہ نہیں اُتار سکتا۔ایک طرف تو احسان ہی احسان ہے اور دوسری طرف کو تاہیاں ہی کو تاہیاں ہیں اور اگر دل میں ذرا بھی کبر پیدا ہو جائے تو بس بیڑا تباہ ہے۔یہ لوگ تمہارے لئے عبرت کا مقام ہیں۔جس طرح آباد گھروں کے پاس اجڑے ہوئے گھر عبرت کے لئے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کسی بادشاہ نے کسی بزرگ سے کہا کہ ہمیں تو آپ پر بہت حسن ظنی ہے مگر آپ کبھی نصیحت کے لئے ہمارے پاس نہیں آئے۔وہ بزرگ بادشاہ کو لے کر اس قلعہ کی ایک کھڑکی کے پاس گئے اور فرمایا وہ دیکھئے! آپ کے سامنے آپ سے پہلے بادشاہ کے قلعہ کے کھنڈرات ہیں جس کے سامنے اس قدر عبرت کا سامان ہو اس کے پاس میرے آنے کی کیا ضرورت ہے۔کیا اس بادشاہ کے پاس سامان آپ سے کم تھے؟ یہی حال آپ کا بھی ہو سکتا ہے۔تو ہمیں ان لوگوں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے رہنا چاہئے۔سة نادان معترض کہتے ہیں کہ کیا محمد مصطفی صلی اللہ نیم گناہ کرتے تھے جو استغفار کرتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بندے کا مقام ہی استغفار کا ہے کوئی کتنی قربانیاں کرے، کتنی عبادات بجا لائے پھر بھی اس کا عمل اللہ تعالیٰ کے احسان سے کم ہی