خطبات محمود (جلد 22) — Page 79
خطبات محمود 79 $1941 مگر میرے پاس یہ عذر کر دیا کہ بیرونی لوگوں کو تو ان جھگڑوں کا پتہ نہیں ان کو آگاہ کرنے سے کیا فائدہ۔اسی طرح مولوی محمد علی صاحب یہ کہہ کر سلسلہ کی بہت سی کتب قادیان سے لے گئے کہ میں پہاڑ پر جا کر ان کی مدد سے ترجمہ قرآن کروں گا لیکن آج تک وہ کتب واپس نہیں کیں اور ان کی مدد سے کیا ہوا ترجمہ اور سلسلہ سے تنخواہ لے کر کیا ہوا ترجمہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کی ملکیت قرار دے دیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی محبت پائی ہے۔پس ہماری جماعت کو سمجھ لینا چاہئے کہ خالی صحبت فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔نام کا صحابی ہونا یا نام کی احمدیت یا اسلام کسی فائدہ کا موجب نہیں بلکہ انسان کو چاہئے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے کہ معلوم نہیں کہ کس قصور اور کس گناہ کی کس عذاب میں مبتلا ہو جائے۔خوب یاد رکھو کہ اصل جڑ تقویٰ ہے۔ہمیشہ وجہ سے بات خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کا خوف جس دل میں نہ ہو وہ ہے۔یہ خیال کر لینا کہ ہم بہت نمازیں پڑھتے ہیں یا بہت چندے دیتے ہیں یا بہت روزے رکھتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ پر احسان کرتے ہیں بہت خطرے ہے اور ایسا خیال کرنے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔میں نے ایک شخص کو دیکھا وہ صحابی تھا مگر نماز نہیں پڑھتا تھا۔باہر کسی جگہ رہتا تھا، میں وہاں گیا (خلافت اولیٰ کے وقت) تو میں نے محسوس کیا کہ یہ نمازوں میں باقاعدہ نہیں۔میں نے وہاں کے دوستوں سے کہا کہ مجھے شبہ ہے یہ شخص نمازوں میں غافل ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے سامنے تو نماز پڑھ لیتا ہے مگر ویسے نہیں پڑھتا اور چندہ بھی نہیں دیتا بلکہ جب کہا جائے تو کہہ دیتا ہے کہ ہم نے بہت نمازیں پڑھی ہیں، بہت چندے دیئے ہیں۔خدا تعالیٰ کا خزانہ کافی بھر دیا ہے۔اب ہمیں نمازوں کی اور چندے دینے کی ضرورت نہیں۔ایسا خیال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان خیال کر لے کہ میرا نمازیں پڑھنا یا چندے دینا اللہ تعالیٰ پر احسان ہے اور اب میں نے کافی احسان کر دیا کب تک کرتا جاؤں۔حالانکہ اگر وہ نیکیوں کی توفیق ملنے کو اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا