خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 78

$1941 78 خطبات محمود یا گناہوں کی وجہ سے اس سے محروم ہی رہ جائیں گے۔بہر حال میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ دیکھو تمہارے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ان واقعات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ محض کوئی نام اختیار کر لینا کوئی کام آنے والی چیز نہیں۔نام کے لحاظ سے تو ان میں صحابی بھی ہیں مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جب بھی موقع ملا انہوں نے خواہ مخواہ نیش زنی کی اور کبھی غلط بیانی سے باز نہیں رہے۔ایک اور واقعہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت کا ہے جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے ایک اشتہار لکھا کہ حضرت خلیفة المسیح کی بیماری شدید ہے۔یہ شاید وفات سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے۔میں نے اس میں جماعت کو یہ نصیحت لکھی کہ ہم لوگوں کو اس وقت سارے جھگڑے مٹا دینے چاہئیں کیونکہ حضرت خلیفة المسیح کو بیماری کی حالت میں ان باتوں سے تکلیف ہوتی ہے اس لئے ہمیں قربانی کرنی چاہئے کہ خاموش رہیں۔میں نے یہ اشتہار لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیجا کہ اس پر دستخط کر دیں اور ہم دونوں کی طرف سے یہ شائع ہو جائے اور یہ بھی کہلا بھیجا کہ چاہیں تو اس میں مناسب اصلاح بھی کر دیں۔مگر مولوی صاحب نے جواب دیا کہ باہر کی جماعت تو ان جھگڑوں کو جانتی بھی نہیں۔یہ تو قادیان کے چند لوگوں تک محدود ہیں۔خواہ مخواہ باہر کی جماعتوں کو ان سے آگاہ کرنے کی کیا ضرورت ہے مگر ادھر حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور ادھر ان لوگوں کی طرف سے سب جماعتوں میں چھپے ہوئے اشتہار اشتہار تقسیم دیئے گئے۔جب میں نے اشتہار مولوی صاحب کے پاس بھیجا تھا اس وقت وہ اپنے اشتہار لکھ کر لاہور میں چھپوانے کے لئے بھجوا چکے تھے۔مگر مجھے یہ جواب دیا کہ بیرونی جماعتوں کو ان جھگڑوں سے آگاہ نہیں کرنا چاہئے اور جو سے آگاہ نہیں کرنا چاہئے اور جو شخص اس طرح صداقت کا خون کر سکتا ہے اس سے دنیا میں اور کیا امید ہو سکتی ہے؟ میرے اشتہار پر دستخط تو اس خوف سے نہ کئے کہ لوگ کہیں گے کہ ایک طرف تو خود باتیں پھیلا رہے ہو اور دوسری طرف کہتے ہو کہ ان جھگڑوں کو بند کر دیا جائے۔سیہ