خطبات محمود (جلد 22) — Page 632
* 1941 632 خطبات محمود ہے جو پانی پینے کے لئے آبخورا اپنے مُنہ سے لگا لے اور اچانک کوئی دوسرا اس سے آبخورا چھین کر لے جائے۔پس وہ لوگ جنہوں نے اس میدان میں اپنا قدم بڑھایا ہوا ہے اور جو گزشتہ سات سال سے قربانی کرتے چلے آ رہے ہیں میں ان کو بتاتا ہوں کہ ان کے لئے یہ بہت نازک ایام ہیں۔اب ایک لمبے عرصہ کا بھیانک خیال کہ ہمیں دس سال مسلسل قربانی کرنی پڑے گی ان کے دلوں سے جاتا رہا ہے اب وہ زمانہ آ گیا ہے جس کے متعلق ان کے ذہن میں یہی آسکتا ہے کہ اب حصہ گزر چکا ہے اور منزل قریب آگئی ہے۔آج اس منزل میں تین سال کا عرصہ اور رہتا ہے۔پھر جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اور زندگی دی انہیں ایک سال گزرنے کے بعد دو سال باقی نظر آئیں گے اور جنہوں نے دو سال گزار لئے انہیں صرف ایک سال جو آخری سال ہو گا دکھائی دے گا اور پھر اس ایک سال کے بعد وہ دن آئے گا جب تمام سال گزر چکے ہوں گے۔تب ان کا دل خوشیوں سے معمور ہو گا اور وہ اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر بجا لائیں گے کہ اس نے اپنے فضل سے انہیں اس لمبی قربانی میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی۔مگر وہ لوگ جنہوں نے دس سال پہلے اس تحریک میں شمولیت کے لئے قدم نہیں اٹھایا ہو گا ان کے دل حسرت و اندوہ سے بھر جائیں گے۔اس تحریک کے پہلے تین سالوں میں جماعت نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اس کے بعد جب اسے دس سال میں پھیلا دیا گیا تو میں نے اس قدر زور نہ دیا اور نہ جماعت نے اس تیز گامی کو قائم رکھا جو سالوں میں تھی۔میں نے یہ سمجھا کہ ہر تحریک میں قبض و بسط کا زمانہ ہوتا ہے۔ان درمیانی چار سالوں کو قبض کا زمانہ ہی سمجھ لو۔چنانچہ میں نے ایسے قانون بنا دیئے جن کے نتیجہ میں ہر سال چندہ میں معمولی زیادتی کر کے بھی انسان سَابِقُونَ میں شامل ہو سکتا ہے۔مثلاً میں نے کہا کہ اگر کسی نے پہلے سال پانچ روپے دیئے ہوں تو رے سال وہ پانچ روپے ایک پیسہ، تیسرے سال پانچ روپے دو پیسے۔اور چوتھے سال پانچ روپے تین پیسے دے سکتا ہے۔اور میں نے چندہ میں خاص طور پر زیادتی کرنے کے