خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 633

* 1941 633 خطبات محمود متعلق زور نہ دیا۔لیکن اب جبکہ 2/3 حصہ سے زیادہ گزر چکا ہے۔میں آٹھویں سال کی تحریک کا اعلان کرنے کے ساتھ پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اب ان تین سالوں اور میں وہ پھر سابقون کی سی تیز گامی اختیار کریں۔اب منزل قریب آ رہی ہے قربانی کے ان بابرکت ایام کا دوبارہ میسر آنا ان کے لئے بہت مشکل ہو گا کیونکہ اس قسم کی تحریک بہت کم ہوتی ہے اور بہت ہی نازک دوروں میں ہو سکتی ہے۔شاید اللہ تعالیٰ اس عرصہ میں جنگ کا خاتمہ کر دے اور اسی عرصہ میں ایسے حالات پیدا کر دے جو اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہوں۔اور پھر ہمیں اس قسم کے چندوں کی ضرورت نہ رہے۔اُس وقت خواہ کوئی شخص کتنی بڑی مالی قربانی کرے گا اور خواہ دس لاکھ روپیہ سلسلہ کے سامنے لا کر رکھ دے گا اس روپیہ کا اسے وہ ثواب نہیں ملے گا جو آج چند روپے دینے والوں کو ثواب مل سکتا ہے۔پس میں ان آخری تین سالوں کی تحریک میں سے پہلے سال کی تحریک کرتے ہوئے پھر دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بیدار ہو جائیں اور سمجھ لیں کہ ان کی منزل ان کے قریب آ گئی ہے۔اب کسی لمبی قربانی کا سوال نہیں بلکہ صرف تین سال قربانی کرنے کا مطالبہ ہے۔اس لئے وہ صرف اتنی کوشش نہ کریں جو انہیں قربانی کے کم سے کم معیار پر رکھے بلکہ تین سال کا عرصہ چونکہ نہایت محدود عرصہ ہے اور جلدی ختم ہو۔اور جانے والا ہے اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ زیادہ زور اور زیادہ ہمت سے کام لیں اس سال پھر وہ اپنی قربانی کی رفتار کو بڑھا دیں جیسے دن ڈوبتے وقت گھر کا کام کرنے والا مزدور زیادہ محنت سے کام کرتا ہے۔اجرت پر کام کرنے والا مزدور تو سارا دن ہی سستی سے کام کرتا ہے مگر جن کے اپنے گھر کا کام ہو وہ جب دیکھتے ہیں کہ سورج غروب ہونے والا ہے تو زیادہ تن دہی اور زیادہ محنت سے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب تو دن ڈوبنے والا ہے۔اب ہمیں زیادہ محنت کام کر کے اسے جلدی ختم کر دینا چاہئے۔اسی طرح اس تحریک کا دن بھی اب ڈوبنے والا ہے۔یعنی وہ کام ختم ہونے والا ہے جس میں شمولیت کی جماعت کے