خطبات محمود (جلد 22) — Page 631
* 1941 631 خطبات محمود گیا ہے۔پس اب اس حصہ عمل کی منزل خدا تعالیٰ کے فضل سے قریب آگئی ہے۔گو مومن کا عمل دنیا میں کبھی ختم نہیں ہوتا۔وہ لوگ جو اپنے آگے نکل جانے والے بھائیوں سے سات سال پیچھے رہ گئے ہیں۔اگر ان کے دلوں میں ایمان پایا جاتا ہے تو آج وہ کس حسرت سے یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ قافلہ سات سال آگے نکل گیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔آج انہیں خیال آتا ہو گا کہ ان سات سالہ قربانیوں کے نتیجہ میں یہ لوگ مرے تو نہیں، یہ لوگ تباہ اور برباد تو نہیں ہوئے۔دنیوی لحاظ سے بھی ان کے گزارہ میں کوئی خاص مشکلات پیدا نہیں ہوئیں۔پس آج ان کے دلوں میں کس قدر حسرت پیدا ہو رہی ہو ہم قافلہ میں شامل نہ ہوئے اور وہ سات سال آگے نکل گیا۔مگر وہ لوگ جو اس تحریک میں شامل ہوئے آج خوش ہیں کیونکہ ان کی منزل ان کے قریب تر ہو گئی ہے۔لیکن ان لوگوں کی اس حسرت کا علاج میرے پاس کوئی نہیں۔ہاں ان لوگوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ابتدا سے اس تحریک میں شامل رہے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی غفلت اور کوتاہی سے سرے پر پہنچ کر گر جائیں گے تو یہ بہت بڑے افسوس کا مقام ہو گا۔کسی شاعر نے کہا ہے۔قسمت میری دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند رو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا پس بے شک ان لوگوں کو بھی بڑی حسرت ہو گی جو اس سفر میں شریک نہیں ہوئے اور پیچھے رہ گئے ہیں۔وہ آج اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہوں گے تو خیال کرتے ہوں گے کہ اس تحریک میں شامل ہونا کونسی بڑی بات تھی مگر اس سے بھی زیادہ حسرت اُس شخص کو ہوتی ہے جو لب بام پہنچ کر گر جائے۔وہ تو یہ خیال کر رہا ہو کہ اب میں صرف ہاتھ اوپر کروں گا تو چھت پر پہنچ جاؤں گا مگر عین اُس وقت رتی ٹوٹے اور وہ نیچے گر جائے اور پھر ناکامی کا منہ دیکھنے لگ جائے۔اس پیاسے کو بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے جسے پانی نہ ملے۔مگر اُس شخص کو تو بہت ہی تکلیف ہوتی :