خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 506

* 1941 506 خطبات محمود واپس لایا جا سکتا ہے۔پس موت دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے۔لیکن انسان ان تمام قوانین سے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے بنائے ہیں ان سب سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ده آجکل رمضان ہے۔روزہ سے ہوں تو پتہ لگتا ہے کہ بھوک کتنی تکلیف چیز ہے۔میرے جیسے کمزور آدمی کے لئے تو خاص طور پر تکلیف دہ ہے۔اس وقت میں جوش میں اتنا بول گیا ہوں ورنہ جب میں کھڑا ہوا تو میرا خیال تھا کہ پانچ سات منٹ سے زیادہ نہ بول سکوں گا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے کہ جب طبیعت میں جوش پیدا ہو تو انسان پہلی تکلیف کو بھول جاتا ہے۔غرض روزہ میں بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے۔آجکل مجھے بھوک تو نہیں لگتی، پیاس لگتی ہے اور عصر کے بعد تو اتنی پیاس لگتی ہے کہ میں نڈھال ہو جاتا ہوں ایسی حالت میں دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو میں سونے کی کوشش کروں اور یا پھر ٹہلنے لگوں۔ٹہلنا ہمارے خاندان کی ایک عادت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ٹہلنے کی عادت تھی۔عصر کے بعد مجھے پیاس کا اور کوئی علاج نظر نہیں آتا۔سوائے اس کے کہ میں ٹہلوں۔تو بھوک اور پیاس بہت تکلیف دہ چیزیں ہیں مگر دنیا کی لذتوں کا بہترین حصہ بھوک اور پیاس سے ہی تعلق رکھتا ہے۔قرآن کریم میں میں نے پڑھا کہ شہد میں بڑی برکت ہے۔ایک دوست شہد لے آئے پہلے ہی روزہ میں میں نے خیال کیا کہ اس میں اتنی برکتیں ہیں، اسی سے کیوں نہ روزہ کھولیں۔چنانچہ شہد میں پانی ڈال کر رکھ دیا اور جب اس سے روزہ کھولا تو یوں معلوم ہوا کہ یہ شہد نہیں بلکہ جنت سے کوئی چیز آئی ہے۔اگر پیاس نہ ہو تو یہ مزا کیسے آئے۔میرا معدہ خراب ہے اس لئے پانی پینے کے بعد مجھے بھوک تو لگتی نہیں مگر رمضان نہ ہو تو میں نے دیکھا ہے سیر کر کے واپس آئیں اور بھوک لگی ہوئی ہو تو کھانے کا بہت ہی مزا آتا ہے۔مجھے بہت سے کھانے کھانے کا اتفاق ہوا ہے۔یورپ کے سفر کے دوران مجھے مصری کھانے کھانے کا بھی موقع ملا، اطالوی کھانے کھانے کا بھی، فرانسیسی کھانے کھانے کا بھی اور انگلستان کے