خطبات محمود (جلد 22) — Page 505
خطبات محمود 505 * 1941 کے سب زمین پر لیٹ کر سو بھی نہ سکتے۔جس طرح جنگ میں لاشیں ایک دوسری کے اوپر ڈالی جاتی ہیں۔اس طرح ایک دوسرے کے اوپر اگر سب کو ڈالا جاتا تو شاید سونے کی جگہ مل سکتی۔بے شک دم تو گھٹتا مگر موت تو آنی نہ تھی۔اگر یہ حالت ہوتی تو غور کرو کس طرح لوگ اپنے آپ پر اپنے ماں باپ اور دادا پردادا پر بلکہ زمین و آسمان پر لعنتیں بھیجتے اور کس طرح موت کو ایک رحمت سمجھا جاتا۔اگر موت نہ ہوتی تو ساری دنیا کے عظمند ایسی ایجادوں میں لگے ہوتے کہ کس طرح : موت ایجاد کی جا سکے جس چھوٹے سے گھر میں ہزاروں سال کے تمام لوگ زندہ ہوتے اور اس کا صحن 20x10 فٹ ہوتا۔اس میں کیا حال ہوتا۔نہ کھانے کو برتن مل سکتے نہ پینے کو پانی جوان بوڑھوں کے اور بوڑھے بچوں کے گلے گھونٹتے کہ کسی طرح مر جائیں مگر موت پھر بھی نہ آتی۔اس وقت تو اگر کسی کا باپ یا دادا فوت ہو جائے تو روتے ہیں مگر موت نہ ہونے کی صورت میں لوگ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ایک وسرے کا گلا گھونٹتے اور کہتے کہ کم بخت مرتا بھی نہیں اور قانون قدرت اور مذہب کو گالیاں دیتے۔تو موت بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے اور قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جو صفائی سے سے اس امر کو پیش کرتی ہے۔بے شک انسان کوشش کرے کہ تندرست رہے، بیماریوں سے بچا رہے مگر چاہئے کہ موت کے لئے بھی تیار رہے اور امید رکھے کہ میں نے ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔یہ موت اگر نہ ہوتی تو انسان کو اس کے لئے دعا کرنی پڑتی۔یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جب انسان پر ایسا وقت آتا ہے کہ اگلی نسل اس سے تنگ آ جائے تو ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اسے موت دے دیتا ہے مگر انسان جوں جوں سائنس میں ترقی کرتا ہے موت کو اڑانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے۔کبھی اس امر کی تحقیق ہوتی ہے کہ انسان کے دل کو دوبارہ کس طرح حرکت میں لایا جا سکتا ہے اور کبھی اس کی کہ بجلی کے ذریعہ انسان کو کس طرح زندہ رکھا جا سکتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ اگر موت پر قابو پا لیا جائے تو اس کے بعد دنیا کے لئے جو ایجاد سب سے اہم سمجھی جائے گی وہ یہی ہو گی کہ کس طرح موت کو۔