خطبات محمود (جلد 22) — Page 507
* 1941 507 خطبات محمود کھانے کھانے کا بھی۔ہماری والدہ دہلی کی رہنے والی ہیں۔اس لئے اس علاقہ کے کھانے بھی کھائے ہیں۔پھر ہم مغل ہیں اور بعض کھانے مغلوں کے خاص ہیں وہ بھی کھائے ہیں اور اس طرح بہت سے کھانے کھائے ہیں مگر بچپن سے جس کھانے کے مزیدار ہونے کا مجھ پر اثر ہے اور جو بھوک کے نتیجہ میں تھا وہ مجھے کبھی نہیں بھولتا۔میں چھوٹا تھا۔تین چار سال کی عمر تھی اور آنکھیں دُکھتی تھیں کھانے کا پر ہیز کرایا جاتا تھا اور صرف دودھ دیا جاتا تھا۔میری ایک کھلائی تھی۔میری آنکھوں میں تکلیف تھی رڑک ہو رہی تھی اور وہ کھلائی مجھے اٹھا کر دالان میں ٹہلاتی اور بہلاتی تھی۔وہ غریب عورت تھی اور اسے بھوک لگی ہوئی تھی اس لئے رات کا باسی ٹکڑا ہاتھ میں لئے کھاتی جاتی تھی اور مجھے بہلاتی بھی جاتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ مجھے اس باسی ٹکڑے سے زیادہ خوشبو دار اور لذیذ چیز کوئی اور نہیں لگی۔اس کے ساتھ کوئی سالن یا دال بھی نہ تھی۔خالی روٹی کا ٹکڑا تھا اور وہ بھی باسی مگر اس کی سوندھی سوندھی خوشبو ہزاروں مرغوں سے زیادہ دل پسند تھی بلکہ اب بھی یاد کر کے وہ خوشبو مجھے آنے لگتی ہے۔تو یہ بھوک کا ہی کمال ہے جس سے کھانے کا مزا آتا ہے۔ایک قصہ مشہور ہے کہتے ہیں کوئی پٹھان محنت و مزدوری کے لئے اپنے سے ہندوستان آیا۔وہ کسی جگہ مزدوری پر لگا ہوا تھا گھر تو یہاں تھا نہیں کہ روٹی کا کوئی انتظام ہوتا۔اس نے خیال کیا کہ کھانے کا وقت آئے گا تو کوئی چیز لے کر کھا لوں گا۔جب کھانے کا وقت آیا تو کوئی عورت خربوزے بیچتی ہوئی ادھر سے گزری۔اس نے اس سے دو چار آنے کے خربوزے لے لئے جو بہت سے آ گئے۔اور وہ انہیں کھانے لگا۔کھاتے کھاتے جب پیٹ بھر گیا تو کہنے لگا کہ یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے جو میں کھا رہا ہوں۔ان کا سردہ بہت زیادہ میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں کا خربوزہ اس کی نسبت بہت پھیکا۔تو اس نے خیال کیا کہ یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔ہندی خربوزہ ہر گز کھانے کے قابل نہیں چنانچہ وہ اٹھا اور کھڑے ہو کر ان پر پیشاب کر دیا اور چلا گیا۔کام پر جا کر جب ایک دو گھنٹہ کہی چلائی تو پھر بھوک وطن۔