خطبات محمود (جلد 22) — Page 460
خطبات محمود 460 * 1941 یہی منشاء ہے تو ہر وہ شخص جس نے اس قانون پر دستخط کئے، ہر وہ شخص جو اس کے مشورہ میں شریک رہا وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہے اور وہ 33 کروڑ باشندوں کو ذلیل کرنے کا مرتکب ہے۔اس کی نمازیں، اس کے روزے اور اس کی قربانیاں، اس کے کسی کام نہیں آئیں گی کیونکہ اس نے دین کو دنیا پر مقدم نہیں کیا۔میں قانون دان نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہندوستانیوں میں کچھ بھی غیرت ہوتی اور اگر اپنے ملک کی ان کے دلوں میں کچھ بھی محبت ہوتی تو ایسے قانون کے پیش ہونے پر اس کے مضر حصہ کو وہ کبھی پاس نہ ہونے دیتے۔میں سمجھتا ہوں کہ جنگ کے ایام میں امن کے قیام کے لئے نسبتاً سخت قانون کی ضرورت ہے مگر اس قسم کے جاہل انسانوں کے ہاتھ میں جو صحیح طور پر بات بھی نہیں سمجھ سکتے کجا یہ کہ قانون کو سمجھ سکیں یہ ایسی چیز ہے جس سے نہایت ہی خطرناک حربہ ہو جاتا ہے۔لیکن فرض کرو ایسا اختیار ڈپٹی کمشنر کو دے دیا جائے تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔گو اس طرح بھی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔مگر موجودہ طریق کے مقابلہ میں بہت کم پیدا ہوں گی۔اور پھر اور نہیں تو یہ فائدہ تو ضرور ہو گا کہ پبلک کا واسطہ کسی ایسے انسان سے پڑے گا جو معقول ہو گا اور بات کو سمجھنے کی اہلیت رکھے گا۔مگر جس قسم کے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہیڈ کانسٹیبل کو درد صاحب تار سنانے لگے تو وہ کہنے لگا مجھے انگریزی نہیں آتی اب اور ترجمان کے ذریعہ سے اسے تار کا مطلب سمجھایا گیا۔جسے اس نے اس وقت بتایا گو بعد میں سنا ہے کہ رپورٹ میں یہ لکھ دیا کہ مرزا خلیل احمد کے ہاتھ سے پیکٹ لیا تھا۔پھر جب انہوں نے کہا کہ جو کچھ کہنا چاہتے ہو لکھ کر دو۔تو پہلے تو وہ لکھنے کے لئے بیٹھ گیا لیکن پھر اس نے کہہ دیا کہ میں لکھ نہیں سکتا۔یہ تو اس کا جھوٹ تھا لیکن بہر حال وہ انگریزی نہیں جانتا تھا۔اب جو لوگ انگریزی نہیں جانتے تو انہوں نے بھلا قانون کا کیا سمجھنا ہے۔پس قانونی لحاظ سے یہ اتنی خطرناک غلطی ہے کہ میرے نزدیک ہر ممبر کونسل جس نے اس کی تائید میں اپنا ووٹ دیا ہے اس نے