خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 461

* 1941 461 خطبات محمود قطعی طور پر اپنے فرض کو ادا نہیں کیا اور اگر کسی نے اس بارہ میں غفلت سے کام لیا ہے تب وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہے اور اگر اس نے جانتے ہوئے اس میں تھوڑے سے تھوڑا حصہ بھی لیا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور بہت بڑا مجرم ہے اور جن احمدیوں نے اس میں حصہ لیا ہے وہ تو بہت بڑے مجرم ہیں۔ہم اخباروں میں ہمیشہ یہ خبریں پڑھا کرتے تھے کہ ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے ماتحت آج فلاں کو سزا ملی ہے اور آج فلاں کو۔اور میں خیال کیا کرتا تھا کہ انہیں سز اجائز طور پر ملی ہو گی مگر اب تو مجھے ساروں کے متعلق یہی شک پیدا ہو گیا ہے۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ شاید انہیں بے جا طور پر ہی جیل خانوں میں ڈال دیا گیا ہے۔بہر حال میں نے اس کے متعلق ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب کو لکھا ہوا ہے اور آج یا کل اس چٹھی کی زائد کاپیاں ان منسٹروں کے پاس بھیجی جائیں گی جو پبلک تقریروں میں ہمیشہ یہ کہا کرتے ہیں کہ ملک میں امن کے قیام کے ہم ذمہ دار ہیں۔اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس واقعہ کے بعد بھی ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں اور کیا قانون کا یہ جائز استعمال کیا گیا ہے یا ناجائز۔اس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو ہم اپنے حق کے حصول کے لئے جد و جہد شروع کریں گے مگر کوئی ایسی کارروائی نہیں کریں گے جو جنگ کے کاموں میں روک پیدا کرنے کا باعث ہو۔جنگ نہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے چھیڑی ہے اور نہ گورنر صاحب نے۔یہ جنگ تو ہمارے بادشاہ اور ان کے وزراء کے حکم کے ماتحت لڑی جا رہی ہے اور ہندوستان کے گورنر یا یہاں کے وزراء اس جنگ کی عمارت کے نیچے کی چھوٹی سی اینٹیں ہیں۔اگر اس میں حکومت پنجاب یا اس کے بعض افسروں کا دخل ثابت بھی ہو جائے تو اس عمارت کے خلاف ہمارا کھڑا ہو جانا نادانی ہو گی۔کیونکہ جنگ کا آغاز ہٹلر نے کیا اور ہمارے بادشاہ اور وزراء نے اس کے مقابلہ کا اعلان کر دیا۔ہم نے جہاں تک غور کیا ہے ہم اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہمارے بادشاہ اور وزراء حق پر ہیں