خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 459

* 1941 459 خطبات محمود اعتراض عائد ہوتا ہے جنہوں نے اپنا بد دیانت ہونا کھلے طور پر ثابت کر دیا ہے کیونکہ جب تک وہ برسراقتدار نہیں آئے تھے اسی قسم کے قوانین کو ظالمانہ کہا کرتے تھے مگر جب ان کی پارٹی برسر اقتدار آئی تو انہی ظالمانہ قوانین کے ماتحت انہوں نے حکومت کی۔اور جب لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں منسوخ کیا جائے تو انہوں نے کہا کہ ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔تو کانگریس کی بر سر اقتدار پارٹی اول درجہ کی خائن ثابت ہو چکی ہے پہلے تو وہ بعض انگریزی قوانین کے خلاف ایجی ٹیشن کرتی رہی مگر جب خود بر سر اقتدار ہوئی تو وہی قانون جاری کر دیئے اور لوگوں کے شور مچانے پر کہہ دیا کہ ان قوانین کے بغیر کام نہیں چلتا۔ایسے خائن اور بد دیانت لوگوں کی ہم پر ذمہ داری نہیں۔لیکن اگر ہماری جماعت کے کسی فرد نے خواہ بحیثیت ممبر اس قانون کی تائید کی ہے اور خواہ قانون کی تشکیل میں حصہ لیا ہے یقینا اس نے اپنی عاقبت خراب کر لی ہے۔اور یقینا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے بہت بڑے مجرم کی صورت میں پیش ہو گا۔کیونکہ اس نے تینتیس کروڑ باشندوں کو قانون کے ذریعہ ذلیل کرنے کا سامان تیار کیا اور ان کی عزتوں کو ایک عرصہ کے لئے خطرہ میں ڈال دیا۔مجھے افسوس ہے کہ یہ قانون ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں سے گزرا ہے جن میں سے بعض میرے نہایت ہی عزیز ہیں مگر خدا مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے اور ہے تو مجھے اس کے مقابلہ میں کسی کی پرواہ نہیں ہو سکتی۔اگر اس قانون کا یہی منشاء یقینا انہوں نے اپنی احمدیت پر ایک دھبہ لگا لیا ہے۔انہیں چاہئے تھا کہ فوراً استعفیٰ دے دیتے اور کہتے کہ ہم اس قانون کی تائید کرنے یا اس پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن اگر اس قانون کا یہ منشاء نہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ گورنمنٹ پر اس امر کو ثابت کریں اور اسے کہیں کہ اس قانون کو خلافِ منشاء کیوں استعمال کیا گیا ہے۔پس جس حد تک واقعہ کا سوال ہے میں ابھی اس کو نظر انداز کرتا ہوں لیکن جس حد تک قانون کا سوال ہے میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر قانون کا