خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 413

خطبات محمود 413 * 1941 علاقوں میں بھی ڈاک کا کوئی انتظام نہیں۔اب کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ان علاقوں میں کوئی احمدی نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ جس دن کوئی شخص اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں نے احمدیت کو قبول کر لیا اسی دن سے وہ خدا کے نزدیک احمدی سمجھا جاتا ہے اور جس دن کوئی شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ خلیفہ وقت کی بیعت ضروری ہے اسی دن سے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مبائع سمجھا جاتا ہے۔غرض عقائد اور ایمان کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے اور انسان ان کے بارہ میں جلدی فیصلہ نہیں کر سکتا اس لئے ہر انسان کو سوچ کر اور غور و فکر کرنے کے بعد کوئی راستہ اختیار کرنا چاہئے اس کے بعد اگر وہ اس عقیدہ اور مذہب پر مضبوطی سے قائم نہیں رہ سکتا تو در حقیقت اس کے یہ معنی ہیں کہ اس نے پہلے بھی صداقت پر غور نہیں کیا تھا۔اگر وہ سوچتا اور غور کرتا تو کس طرح ممکن تھا کہ وہ ایک قیمتی چیز کو یونہی رائیگاں کھو دیتا۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے میرا خیال یہ ہے کہ بچپن میں جب انسان کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں ہوتی تو اس کے اندر بے استقلالی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔جس طرح بچوں کے دل میں کھلونوں کے متعلق شدید خواہش پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ ان کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔اسی طرح بڑے ہو کر جب زندگی کے اہم مسائل اس کے سامنے آتے ہیں تو وہ ان سے بھی کھلونوں جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے لیکن چھوٹی عمر میں تو اس کے سامنے کھلونے ہوتے ہیں جن کے ٹوٹنے سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا اور بڑی عمر میں ایسی اہم اور ضروری چیزوں سے جن کے ساتھ ان کی ابدی یا سفلی زندگی وابستہ ہوتی ہے وہ کھلونوں کا سا سلوک کرتا اور ان کو توڑ کر اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیتا جس طرح بچپن میں وہ کبھی گھوڑے کے لئے روتا اور چلاتا ہے اور جب وہ اسے مل جاتا ہے تو اسے توڑ دیتا ہے کبھی ریل کے لئے روتا اور چلاتا ہے اور وہ اسے مل جاتی ہے تو اسے توڑ دیتا ہے۔کبھی چکی کے لئے روتا اور چلاتا ہے اور جب وہ اسے مل جاتی ہے تو اسے توڑ دیتا ہے۔اسی طرح بڑے ہو کر وہ خدا اور اس کے رسول