خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 414

* 1941 414 خطبات محمود اور اس کے دین اور اس کے قرآن اور دوسری اہم چیزوں سے جو نہایت ہی پاکیزہ ہوتی ہیں اور جن کے ساتھ اس کی روحانی زندگی وابستہ ہوتی ہے یہی سلوک کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے خدا مل جائے اور جب وہ مل جاتا ہے تو اسے پھینک دیتا ہے۔کبھی کہتا ہے رسول مل جائے اور جب وہ مل جاتا ہے تو اسے پھینک دیتا ہے۔کبھی کہتا ہے امام وقت مل جائے اور جب وہ مل جاتا ہے تو اسے پھینک دیتا ہے۔گویا اسے یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔پس مومن کو اپنی عادات میں پختگی پیدا کرنی چاہئے اور جب وہ دیانتداری کے ساتھ کسی سچائی کو قبول کر لے تو اس کے بعد فاسد خیالات اور غفلتوں کا اسے مقابلہ کرنا چاہئے۔سچائیاں سورج کی طرح چمکتی پس مومن کو چاہئے کہ وہ سچائی کو اسی وقت مانے جب سورج کی طرح اسے کسی سچائی پر یقین پیدا ہو جائے پھر جس طرح سورج پر کسی کو یقین پیدا ہو جاتا ہے تو شکوک و شبہات سے وہ اس یقین کو باطل نہیں کیا کرتا اور نہ لوگوں سے دلیلیں پوچھنے جاتا ہے کہ سورج چڑھنے کی کیا دلیل ہے اسی طرح مومن کو معمولی معمولی عذرات کی بناء پر سچائی کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔اس کا فرض ہے کہ جب وہ کسی سچائی کو قبول کرنے لگے تو خوب غور کرے، استخارہ کرے، نمونہ دیکھے، دعاؤں سے کام لے، دلائل کا موازنہ کرے۔غرض اپنے دل کا کامل اطمینان کر کے سچائی قبول کرے۔جب وہ ان چاروں دلائل سے کام لے لے گا، وہ نمونہ بھی دیکھ لے گا، وہ مشاہدہ سے بھی کام لے لے گا، وہ دلائل عقلیہ کا بھی جائزہ لے لے گا اور پھر خدا سے بھی پوچھ لے گا تو ان چار شواہد کے بعد جو چیز اسے ملے گی وہ ایسی یقینی اور قطعی ہو گی جیسے سورج۔اس کے بعد اگر پھر کسی وقت اس کے دل میں شبہ پیدا ہو تو وہ خدا سے استغفار کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ یہ چاروں شواہد غلط ہوں۔اب یہ سچائیوں کا کام نہیں کہ وہ اس کے پاس جائیں اور اپنی سچائی ثابت کریں بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے