خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 412

* 1941 412 خطبات محمود ضرورت نہیں۔آپ بے شک میدان جنگ میں چلے جائیں اور تحقیق کرتے رہیں۔جہاں بھی آپ کو احمدیت کی صداقت پر دلی یقین آجائے گا۔آپ خدا تعالیٰ کے حضور اسی وقت احمدی شمار ہونے لگیں گے۔بیعت در حقیقت دل کی ہوتی ہے۔یہ ظاہری بیعت تو محض نظام کے قیام کے لئے ہے۔اگر ظاہری بیعت نہ ہو تو ممکن ہے کوئی شخص دھوکا سے دوسرے کو کہہ دے کہ وہ احمدی ہے حالانکہ وہ احمدی نہ ہو۔یا ممکن ہے وہ رشتے لینے کے لئے احمدیت کا اظہار کر دے حالانکہ وہ سچے دل سے احمدی نہ ہو۔پس یہ ظاہری بیعت نظام کو قائم رکھنے کے لئے ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ظاہری بیعت کے بغیر کوئی شخص احمدی نہیں ہو سکتا۔جس دن کوئی شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سچے ہیں اسی دن وہ احمدی ہو جاتا ہے اور جس دن کوئی شخص یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ خلیفہ وقت کی بیعت ضروری ہے اسی دن وہ مبائعین میں شامل ہو جاتا ہو جاتا ہے خواہ اسے بیعت کا خط لکھنے کا موقع ملے یا نہ ملے اور خواہ اس کی احمدیت کا کوئی گواہ ہو یا نہ ہو۔کیونکہ فیصلے قلوب کی حالت پر ہوتے ہیں۔اس ڈاک پر نہیں ہوتے جو انگریز پہنچاتے ہیں۔فرض کرو آج انگریزی حکومت ڈاک کی آمد و رفت بند کر دے اور لوگ بیعت وغیرہ کے لئے خطوط نہ لکھ سکیں تو کیا اس وقت جماعت کی ترقی رک جائے اور لوگ احمدی نہیں ہوں گے؟ لوگ پھر بھی احمدی ہوں گے اور جماعت کی ترقی پھر بھی ہوتی رہے گی کیونکہ خدا دل کی حالت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔اگر شخص کو یقین کامل کے بعد ظاہری بیعت کا موقع ملے اور وہ پھر بھی نہ کرے تو بے شک یہ اس کی ضد سمجھی جائے گی لیکن اگر کسی شخص کو خط لکھنے کا موقع نہ ملے اور احمدیت کی صداقت اس کے دل میں گھر کر جائے تو وہ اسی وقت سے احمدی سمجھا جائے گا۔خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو اور خواہ دنیا میں اس کی احمدیت کا کوئی گواہ ہو یا نہ ہو۔دنیا میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں ڈاک کا کوئی چین کے بعض حصے ایسے ہیں جہاں ڈاک کا انتظام نہیں، صوبہ سرحد کے بعض انتظام نہیں،