خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 32

$1941 32 خطبات محمود اپنے بچوں سے ہوتی ہے یا باپ کو بچوں سے ہوتی ہے، خاوند کو بیوی سے اور بیوی کو خاوند سے ہوتی ہے۔ان کے قلوب کی جو کیفیت ہوتی ہے کیا وہ فرائض والی حالت ہوتی ہے؟ فرائض والی کیفیت تو نوکر اور آقا کی ہوتی ہے جس میں بسا اوقات شرائط ہوتی ہیں کہ میں یہ کام کروں گا اور یہ نہیں کروں گا مگر گھروں میں کبھی یہ باتیں نہیں ہوتیں۔کیا بچوں کے معاملہ میں یا خاوند اور بیوی کے معاملہ میں کوئی شرائط ہوتی ہیں ؟ دس پندرہ روپیہ تنخواہ لینے والے نوکر سے بھی اگر کہو کہ پاخانہ اٹھائے تو کبھی خوشی اور بشاشت سے نہیں اٹھائے گا۔مگر دس ہزار روپیہ ماہوار کمانے والے انسان کی بیوی جو اس کے درجہ میں برابر کی شریک ہے اگر کوئی ایسا موقع آ جائے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے خاوند کا پاخانہ اٹھا دے گی اور اسی طرح خاوند بیوی کا اٹھا دے گا۔خواہ وہ گورنر ، وائسرائے بلکہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔اگر کوئی ایسا موقع آئے کہ نوکر پاس نہ ہو اور بیوی کو قے ہو جائے تو کیا وہ انتظار کرے گا کہ نوکر کو بلائے اور وہ اسے صاف کرے۔وہ اس وقت یہ خیال نہیں کرے گا کہ کام چوہڑوں کا ہے بلکہ وہ خود اسے صاف کرے گا۔تو محبت کے موقع پر فرائض کو نہیں دیکھا جاتا۔مولویوں نے شریعت کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے فقہ کی کتابوں میں عجیب مسائل لکھ دیئے ہیں مثلاً خاوند پر فرض یہی ہے کہ بیوی کو دو جوڑے کپڑے دے دے اور کھانا مہیا کر دے خواہ کوئی غریب ہو یا بادشاہ بس اس پر دو جوڑے ہی فرض ہیں حالانکہ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی کئی کئی جوڑے دن میں بدلے اور بعض دو بھی نہیں سکتے تو ایسے فتووں پر انسان کس طرح عمل کر سکتا ہے؟ بعض گھروں میں کام زیادہ ہوتا ہے عورتیں کپڑے خود نہیں دھو سکتیں اور بعض مرد نفاست پسند ہوتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ بیوی دوسرے تیسرے روز کپڑے بدلے۔اب یہ دو جوڑوں سے تو سکتا اور اس لئے وہ بغیر اس خیال کے کہ فقہ کی کتابوں میں کیا لکھا ہو کافی کپڑے بنا دیتے ہیں۔ہے