خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 33

خطبات محمود 33 $1941 پھر بعض لوگ دو جوڑے بھی نہیں بنا کر دے سکتے اس لئے یہ کوئی پابندی نہیں کی جا سکتی۔بعض لوگ بیوی کو پچاس سو بلکہ ہزاروں روپیہ ماہوار جیب خرچ دے دیتے ہیں مگر کئی لوگ ہیں جو روٹی بھی مہیا نہیں کر سکتے۔اب اس معاملہ میں کون یہ دیکھتا ہے کہ فقہاء کیا کہتے ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات میں ان باتوں کو نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس تعلق کی بنیاد محبت پر ہوتی ہے۔ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جتنا بھی ہو سکے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں۔غرض جوڑوں کی قید صرف فرائض کی ادائیگی تک تو ہو سکتی ہے مگر محبت کے تعلقات میں اسے قائم نہیں رکھا جا سکتا بلکہ میاں یہ دیکھتا ہے کہ اپنی بیوی کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچائے اور بیوی یہ کہ زیادہ سے زیادہ خدمت خاوند کی کر سکے اور وہ ایسی خدمت کرتی ہے کہ بعض اوقات چار پانچ روپیہ کا نوکر بھی نہیں کر سکتا۔میں دوسروں کا نہیں کہتا خود اپنے گھر کا تجربہ بیان کرتا ہوں۔کئی بار شدید بیماری کی حالت میں ایسے مواقع بھی آئے ہیں کہ چارپائی کے قریب ہی کموڈ پاخانہ یا پیشاب کرنا پڑا اور ملازمہ وغیرہ کو جب اٹھانے کو کہا گیا تو اس نے کہا کہ ابھی چوہڑی آتی ہے وہ اٹھا لے جائے گی۔مگر بیوی نے فوراً اٹھا کر باہر رکھ دیا اسے یہ احساس تک بھی نہیں ہوا کہ یہ چوہڑی کا کام ہے بلکہ اس وقت اسے یہ پتہ بھی نہیں لگ سکا کہ یہ ایسا کام ہے جو میرے کرنے والا نہیں۔یہی حال خاوند کا ہوتا ہے۔تو محبت کے تعلقات ایسی ہی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔فرائض کی ادائیگی پر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرمایا کرتے تھے کہ کسی صوفی سے کسی نے پوچھا کہ مجھے کوئی ایسا کلمہ بتا دو جس کا میں ذکر کیا کروں۔انہوں نے کوئی کلمہ بتا دیا۔اس نے پھر پوچھا کہ کتنی دفعہ روزانہ یہ ذکر کیا کروں؟ وہ صوفی خدا رسیدہ تھے یہ سوال سن کر حیرت میں پڑ گئے۔تھوڑی دیر بالکل خاموش رہے اور پھر فرمایا کہ “یار دا ناں لینا تے گن گن کے ؟ ” یعنی کیا محبوب کے ذکر پر بھی گنتی اور شمار کی قید لگائی جا سکتی ہے ؟ اگر محبت ہو تو جو بھی فرصت کا وقت ہو اس میں اس کی