خطبات محمود (جلد 22) — Page 31
$1941 31 خطبات محمود میں نے اسے دور کیا اور اس طرح اپنے فرض سے زائد کام کیا۔فرض صرف یہی تھا کہ میں فساد میں خود حصہ نہ لوں لیکن اس سے زائد کام کرنے کی وجہ سے میں انعام کا مستحق ہوں تو اس کا مطالبہ معقول ہو گا۔غرض انعام کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ فرض سے بڑھ کر کام کیا جائے۔فرائض کو ادا کر دینا انسان کو سزا سے تو بچا سکتا ہے مگر قرب الہی کا موجب نہیں ہو سکتا۔قرب نوافل سے ہی ملتا ہے اور نماز باجماعت بھی فرائض میں داخل ہے۔اس کے بعد وہ چیزیں ہیں جو نوافل کا درجہ رکھتی ہیں مثلاً ذکر الہی کرنا، استغفار کرنا، صفات الہی پر غور کرنا۔دن میں، اپنے کام کے دوران میں جب بھی وقفہ ملے تسبیح، تحمید اور تکبیر کرتے رہتا بلند آواز سے ہی ضروری نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بھی یہ ذکر کیا جا سکتا ہے۔یہ چیزیں روح میں طاقت پیدا کرتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہیں۔رسول کریم صلی نیلم نے فرمایا ہے کہ مومن نوافل سے ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے اور جوں جوں وہ نوافل میں ترقی کرتا ہے خدا تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے۔اگر وہ ایک قدم خدا تعالیٰ کی طرف اٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ دو قدم اس کی طرف آتا ہے۔اگر وہ چل کر خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے تیز چل کر اس کی طرف آتا ہے۔اگر وہ تیز چل کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ دوڑ وہ کر اس کی طرف آتا ہے یہاں تک کہ نوافل کے ذریعہ ایک دن ایسا آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ کام کرتا ہے ، خدا تعالیٰ اس کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے، خدا تعالیٰ اس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ وہ دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے۔3 مگر یہ مقام سوائے اس حالت کے حاصل نہیں ہو سکتا جو عشق کی ہوتی ہے۔عاشق کے معنی عام طور پر پاگل کے ہی سمجھے جاتے ہیں جن کا قصوں میں ذکر ہے مثلاً مجنوں، فرہاد وغیرہ۔مگر عشق دراصل شدید محبت کا نام ہے۔جیسے ماؤں کو